ابنا: العالم کی رپورٹ کے مطابق مبایکی شہر میں مسلمانوں کی نسل کشی اور اس شہر میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ یہ شہر مسلمانوں سے مکمل طور پر خالی ہوگیا ہے۔ فرانس کے اخبار لومونڈ نے لکھا ہے کہ اس شہر میں مسلمانوں کے قتل عام کے دوران اس شہر میں آباد ایک مسلمان "صالح دیدو" نے اس شہر کو ترک کرنے سے انکار کردیا تھا۔ مبایکی شہر کے اس باشندے نے اس وقت جب اس شہر کے مسلمان عوام مبایکی کو ترک کررہے تھے ، تاکید کی کہ میں اس شہر میں پیدا ہوا ہوں ، میرے بچے بھی اس شہر میں پیدا ہوئے ہیں اور میں اس شہر کی بلدیہ کا رکن ہوں اور اس سرزمین کو اپنا وطن سمجھتا ہوں کیوں اپنے وطن کو ترک کروں۔ اس دوران "صالح دیدو" کو بے پناہ دہمکیاں ملیں، لیکن اس نے اپنے شہر میں ہی قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایمینسٹی انٹرنیشنل نے "صالح دیدو" کے قتل کی تحقیقات کے بعد اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ مبایکی کے اس شہری کو نہایت ہی بے دردی سے قتل کیا گیا ہے۔ "صالح دیدو" کے ہمسایوں نے اس کی حاملہ بیوی اور بچوں کو شہر سے نکالا اور سینٹرل افریقہ کے مرکز "بانگی" روانہ کردیا۔ یاد رہے کہ سینٹرل افریقہ میں انتہا پسند عیسائیوں کے ہاتھوں ہزاروں مسلمان قتل کردیئے گئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
5 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 511571
سینٹرل افریقہ کے شہر مبایکی میں آخری مسلمان فرد کی مزاحمت، انتہا پسند عیسائیوں کے ہاتھوں اس مسلمان کے بہیمانہ قتل کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔