ابنا: پرس ٹی وی کے حوالے سے خبردی ہے کہ عراقی رکن پارلیمنٹ السیہود نے کہا کہ یہ واضح ہوگیا ہے کہ تکفیری دہشتگردوں کا وجود بعض ممالک کے اسلحہ اور مالی امداد پر منحصر ہے اور سعودی عرب ان تکفیری دہشتگردوں کا سب سے بڑا حامی ہے۔عراقی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے تھا کہ دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے عالمی برادری کو پہلے سعودی سلطنت کو شکست دینی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ عراق میں تکفیری دہشتگرد گروپ شام کی طرح سرگرم نہیں ہے جہاں وہ جہادالنصرہ اور داعش کے نام سے دہشتگردی پھیلارہے ہے۔رواں ماہ کی 21 تاریخ کو عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے بھی ملک میں دہشتگردوں کی حمایت پر سعودی عرب کی سخت تنقید کی ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب،قطر اور ترکی جیسے ممالک شام میں جاری دہشتگردی کے ذمہ دارہیں جہاں مارچ2011 سے ایک لاکھ تیس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔جنوری کے مہینے میں ہی عراقی وزیر اعظم نے بانکی مون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عراق میں جاری تشدد کی لہر کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھرانا چاہئے۔واضح رہے کہ عراق کے مغربی صوبے الانبار میں گذشتہ دو مہینوں سے عراقی سیکورٹی فورسز اور داعش کے دہشتگردوں کے درمیان خون ریز لڑائی جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
23 فروری 2014 - 20:30
News ID: 508664
ایک عراقی قانون ساز نے کہا ہے کہ تکفیری دہشتگردوں کو سعودی عرب کی حمایت سے نہ صرف عراق بلکہ پورے خطے کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔