ابنا: انھوں نے ایران کے جام جم ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویانا میں مذاکرات کا یہ نیا دور، پہلے دور میں ہونے والی مفاہمت کی بنیاد پر انجام پایا اور فریقین کے رضاکارانہ مشترکہ ایکشن پلان کی مدت چھے مہینے کی ہے جس کا مقصد دو طرفہ اعتماد پیدا کرنا ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے کہا کہ ان چھے مہینوں کے دوران فریقین کو فائنل سمجھوتے کے حصول کیلئے اہم ترین اقدامات عمل میں لانا ہوں گے۔ بہروز کمالوندی نے ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون اور اس تعاون کے مرتب ہونے والے اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کو سیاسی بنادیا گیا اگر چہ اس میں کچھ اور مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں مگر وہ سب ایسے ہی مسائل ہيں کہ جن سے سیاسی مقاصد میں ہی مدد مل سکتی ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے کہا کہ مغربی فریق جو مقاصد، دھونس دھمکی سے حاصل نہیں کرسکا، بعد میں پابندیوں اور اب مذاکرات سے حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن اسے یہ جان لینا چاہیئے کہ ایران، اپنے مسلمہ حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
.......
/169