ابنا: کوہاٹ شہر کے تھانہ صدر کے ایس ایچ او اقبال خان کے مطابق، شیر محمد طوری کو گھڑی مواز خان چوک میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ جمعہ کو صبح کے وقت کچہری جا رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے امام بارگاہ کے متولی کے سر میں گولی ماری جس سے وہ موقعے پر ہی جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ان کی لاش کو مقامی ہسپتال لے جایا گیا۔
خیال رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے کوہاٹ اور ہنگو علاقوں میں تکفیری اور طالبان شدت پسند شیعوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتے رہتے ہیں۔
پاکستان میں حالیہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے باعث شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے کئی مذہبی رہنماؤں اور سرکردہ افراد کو ہدف بنا کر شہید کیا جا چکا ہے۔
گزشتہ سال نومبر میں ماہ محرم کے دوران عاشورہ کے موقع پر راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم 11 افراد جاں بحق ہو گئے تھے جس کے بعد اس کشیدگی کے اثرات ہنگو اور کوہاٹ میں بھی دیکھے گئے۔
تشدد کے اس سلسلے کے خاتمے کے لیے پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے حال ہی میں کہا تھا کہ حکومت مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے لیے ایک لائحہ عمل وضع کرنے پر کام کر رہی ہے۔
.......
/169