17 فروری 2014 - 20:30
دمشق کے مضافات میں فوج اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق+ تصاویر

فرانس نیوز ایجنسی کے نامہ نگاروں نے دمشق کے جنوبی علاقے ’’بابیلا‘‘ سے رپورٹ دی ہے کہ شامی باغیوں اور اس ملک کے فوجیوں نے آپس میں گفتگو اور مذاکرات کر کے فی الحال ہتھیار ڈال دئے ہیں۔ یہ ایسا اتفاق ہے جس کا تصور کچھ دن پہلے ناممکن تھا۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایسے حال میں جب جنیوا ۲ کانفرنس میں شامی حکام اور مخالف پارٹیوں کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے تو شام کے اہم اور حساس علاقوں میں فوج اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی کا اعلان ہو گیا ہے۔فرانس نیوز ایجنسی کے نامہ نگاروں نے دمشق کے جنوبی علاقے ’’بابیلا‘‘ سے رپورٹ دی ہے کہ  شامی باغیوں اور اس ملک کے فوجیوں نے آپس میں گفتگو اور مذاکرات کر کے فی الحال ہتھیار ڈال دئے ہیں۔ یہ ایسا اتفاق ہے جس کا تصور کچھ دن پہلے ناممکن تھا۔

یہ جنگ بندی اس ملک میں فوج اور باغیوں کے درمیان ۱۸ ماہ وحشتناک جنگ کے بعد ہو رہی ہے اطلاعات کے مطابق بابیلا علاقے کے علاوہ مدامیہ، قدسیا، بیت شام، یلدا، بارزہ اور یرموک میں بھی جنگ بندی کا اعلان ہو گیا ہے۔

یہ باہمی صلح عام افراد کی کوششوں سے وجود میں آئی ہے اور اس صلح کے نتیجے میں جن علاقوں پر محاصرہ کیا گیا ہے وہ ختم کر دیا جائے گا اور باغیوں کے زیر تسلط علاقوں میں خوراک تقسیم کی جائے گی۔ اس رپورٹ کے مطابق باغیوں نے اپنا اسلحہ فوج کے حوالے کر دیا ہے اور شام کا قومی پرچم لہرا دیا ہے۔

مزید رپورٹ کے مطابق مسلح افراد اور فوج کے درمیان دمشق کے شمالی علاقوں میں بھی عنقریب باہمی اتفاق ہو جائے گا جس کے بعد دمشق کے جنوبی علاقے داریا میں بھی جنگ بندی کا اعلان ہو گا۔فرانس کے نامہ نگار نے بابیلا کے علاقے میں ساکن لوگوں سے گفتگو کر کے رپورٹ پیش کی ہے کہ اس علاقے کے لوگوں نے باہمی اتحاد کے نعرے لگائے ہیں۔

شام کی فوج نے اس ملک کے قومی پرچم کو بابیلا شہر کے سرکاری اداروں پر بلند کر دیا ہے۔ جنگ بندی کا اعلان ہوتے ہیں اس شہر کی بلدیہ نے شہر میں عوامی خدمات کو از سر نو شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ شام کے صدر جمہوریہ بشار الاسد نے گزشتہ ماہ جنوری میں فرانس نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کی جنگ بندیاں جنیوا مذاکرات سے کہیں زیادہ موثر ثابت ہوں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲