ابنا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پوتن نے السیسی کے صدر بننے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ عبدالفتاح کے صدر بننے کے بعد روس اور مصر کے دو طرفہ تعلقات مضبوط ہوں گے۔مصر کے فوجی سربراہ جنرل السیسی نے صدر پوتن کے ساتھ ماسکو میں اسلحے کے ایک معاہدے کے سلسلے میں بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔جنرل السیسی کے روس کے دورے کے دوران دو ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کا معاہدہ ہونا ہے۔واضح رہے روس انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہایوں کے دوران مصر کو اسلحہ فراہم کرنے والا اہم ترین ملک رہ چکا ہے، تاہم بعد میں اس کی جگہ امریکا نے لے لی تھی۔جبکہ حال ہی میں امریکہ نے صدر مرسی کے معزول کیے جانے کے اقدام کے نتیجے میں مصر کی سالانہ فوجی امداد میں سے کچھ امداد کے معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔جنرل السیسی نے کہا ہے کہ میرے دورے کے نتیجے میں مصر اور روس کے درمیان عسکری اور تکنیکی تعاون کے نئے دور کا آغاز ہو گا اور ہم اس تعاون کو تیز کرنے کی امید رکھتے ہیں۔اس معاہدے کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں مگر روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ مصر فضائی دفاعی نظام، مگ29 جیٹ جنگی طیارے اور ہیلی کاپٹروں سمیت دوسرے ہتھیار حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
13 فروری 2014 - 20:30
News ID: 505868
مصر کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے اپنے دورے ماسکو کے دوران مصر کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے غیرملکی حمایت حاصل کرنے کا آغاز کردیا ہے اور اس حوالے سے روس کی حمایت حاصل کرلی ہے۔