9 فروری 2014 - 20:30
جمہوریۂ وسطی افریقہ میں مسلمانوں کے نسلی صفائے کی منظم کوشش

جمہوریۂ وسطی افریقہ میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود بینگوئی مسلمانوں کے خلاف شدت پسندوں کے تازہ ترین حملوں میں مزید دس افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔

ابنا: جمہوریۂ وسطی افریقہ میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کے باوجود بینگوئی مسلمانوں کے خلاف شدت پسندوں کے تازہ ترین حملوں میں مزید دس افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ کئی ہفتوں سے جاری، مسلم اقلیت پر عیسائی شدت پسندوں کے حملوں میں تاحال سینکڑوں کی تعداد میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جا چکا ہے اور ان کی املاک کو لوٹا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے ایک سینیئر اہلکار نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جمہوریۂ وسطی افریقہ میں منظم طریقے سے، مسلمانوں پر تشدد کر کے، انہیں نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور وہ دن دور نہیں جب ملک سے مسلم اقلیت کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

اتوار کو مسلم آبادی پر حملوں کے خلاف تقریر کرنے والے ملک کی پارلیمان کے رکن جین ایمینوئل نجاروا کو بھی مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر پیٹر بوکارٹ نے بتایا کہ انھوں نے دارالحکومت بینگوئی میں خود اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کو قتل ہوتے دیکھا۔

جمہوریۂ وسطی افریقہ میں گذشتہ برس فوجی بغاوت کے بعد سے عیسائی شدت پسندوں کے حملوں کی وجہ سے اب تک تیس ہزار مسلمان چاڈ، اور دس ہزار کیمرون نقل مکانی کر چکے ہیں۔

پیٹر بوکارٹ کے مطابق جمہوریۂ وسطی افریقہ میں عیسائی مسلم عداوت، انتہا کو پہنچ چکی ہے اور وہ دن دور نہیں جب ملک سے مسلمانوں کا مکمل صفایا ہو جائے گا۔

.......

/169