9 فروری 2014 - 20:30
پاکستان میں شیعہ نسل کشی اور حکومت وطالبان مذاکرات کے خلاف مظاہرے

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ذیلی شعبہ وحدت یوتھ پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر اتوار کے روز سندھ بھر کی طرح کراچی پریس کلب کے باہر ملک میں جاری شیعہ نسل کشی اور سانحہ پشاور سمیت کالعدم دہشت گرد طالبان کے ساتھ حکومتی مذاکرات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا.

ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ذیلی شعبہ وحدت یوتھ پاکستان کراچی ڈویژن کی جانب سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر اتوار کے روز سندھ بھر کی طرح کراچی پریس کلب کے باہر ملک میں جاری  شیعہ نسل کشی اور سانحہ پشاور سمیت کالعدم دہشت گرد طالبان کے ساتھ حکومتی مذاکرات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سیکڑوں جوانوں نے شرکت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت ملک میں بڑھتی ہوئی بد امنی اور بانیان پاکستان کی اولادوں کی نسل کشی کے خلاف عملی اقدامات کرے اور پچاس ہزار پاکستانیوں کے قاتلوں طالبان دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی بجائے فوجی آپریشن کر کے ملک کو دہشت گردی سے نجات دلائی جائے۔مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکہ، اسرائیل کے خلاف نعرے درج تھے ، جبکہ دہشت گردی اور فرقہ واریت کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے ۔ احتجاجی مظاہرے سے وحدت یوتھ پاکستان صوبہ سندھ کے چیئر مین مہدی عباس ، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی کے رابطہ سیکرٹری مولانا علی انور جعفری اور وحدت یوتھ کراچی کے سیکرٹری جنرل سید علی عباس نے خطاب کیا ، انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان عوام کی امنگوں کا احترام کرتے ہوئے عوامی مفادات میں فیصلہ کرے اور عوام دشمن اور آئین پاکستان کی توہین کرنے والے ملک دشمن عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے، رہنماؤں کاکہنا تھا کہ اگر پاکستان میں بڑھتی ہوئی شیعہ نسل کشی کی روک تھام کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے سنجیدہ اقدامات نہ کئے تو پاکستان کے نوجوان حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے اور اس تحریک کا خاتمہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے اقتدار کے نشے میں دھت حکمرانوں کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہو گا۔

.......

/169