ابنا: شام کے نائب وزير خارجہ فيصل مقداد نے کہا ہے کہ دمشق حکومت نے شام کے بحران کے سياسي حل کے لئے جنيوا دو اجلاس کے دوسرے دور کے مذاکرات ميں شرکت کا فيصلہ کيا ہے -
جنيوا دو اجلاس کے پہلے دور کے مذاکرات سوئزرلينڈ کے شہر موٹروکس ميں انجام پائے تھے اور دوسرے دور کے مذاکرات جنيوا ميں پير سے شروع ہورہے ہيں -
شام کے نائب وزير خارجہ فيصل مقداد نے کہا کہ شام کے مختلف علاقوں ميں امن کي بحالي کا انحصار اس بات پر ہے کہ جنيوااعلاميے کي اساس پر تشدد اور دہشتگردي ختم کرنے پرسنجيدگي کے ساتھ غور کيا جائے اور عام شہريوں کي جان و مال کي حفاظت کے لئے دہشتگرد گروہوں کي علاقائي اور بين الاقوامي حمايت بند کي جائے - دوسري جانب اقوام متحدہ کے ذرائع نے اعلان کيا ہے کہ جنيوا دو اجلاس کے تحت مذاکرات کے دوسرے دور ميں دمشق حکومت کے وفد کي قيادت وزير خارجہ وليد معلم کريں گے -اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق جنيوا دو اجلاس کے تحت دوسرے دور کے مذاکرات پير کو شروع ہوں گے اور جمعے تک جاري رہيں گے اور اگر ضروري سمجھي گئي تو جمعے کے بعد بھي جاري رکھے جائيں گے - اقوام متحدہ نے اسي کے ساتھ اعلان کيا ہے کہ اخصر ابراہيمي اپني ثالثي کي کوششيں بھي جاري رکھيں گے - پير سے جنيوا دو اجلاس کے دوسرے دور کے مذاکرات ايسي حالت ميں شروع ہورہے ہيں کہ پہلے دور کے مذاکرات بے نتيجہ رہے ہيں -جنيوا دو اجلاس کے دوسرے دور کے مذاکرات ميں آمادگي کے اعلان کے ساتھ ہي شام کے وزير اطلاعات و نشريات عمران الزعبي نے کہا ہے کہ جنيوا دو اجلاس کے پہلے دور کے مذاکرات کے بعد شام کي حکومت کي پوزيشن پہلے سے زيادہ مستحکم اور مخالفين نيز دہشتگرد گروہوں کي پوزيشن مزيد کمزور ہوئي ہے - انہوں نے کہا کہ شام پر حملے اور جارحيت ميں مخالفين کو شکست ہوئي ہے - انہوں نے اسي کے ساتھ کہا کہ بحران ختم کرنے کا بہترين راستہ مذاکرات ہيں ليکن حکومت اور مخالفين کے درميان مذاکرات ميں شام کے عوام کے مفادات کو مد نظر رکھنا ضروري ہے - عمران الزعبي نے کہا کہ جنيوا دو اجلاس کے پہلے دور کے مذاکرات نے ثابت کرديا ہے کہ شام کي حکومت کے مخالفين مذاکرات اور گفتگو ميں سنجيدہ نہيں ہيں - انہوں نے شام کي حکومت کي خود مختاري، آزاد، شفاف اور جمہوري اصولوں پر استوار انتخابات اور ايک قومي حکومت کي تشکيل کي ضرورت پر بھي زور ديا - ادھر دمشق ميں عوام کي بڑي تعداد نے مظاہرہ کرکے حکومت اور فوج پر اپنے اعتماد اور دہشتگرد گروہوں کي مخالفت کا اعلان کيا ہے - مظاہرين نے اپنے ہاتھوں ميں اپنے ملک کا قومي پرچم اور صدر بشار اسد کي تصاوير اٹھارکھي تھيں اور اعلان کيا کہ انہيں جنيوا دو اجلاس ميں حکومتي وفد پر پورا اعتماد ہے - مظاہرين نے اعلان کيا کہ شام کے عوام کا ترجمان مخالفين کا وفد نہيں بلکہ حکومتي وفد ہے - اسي کے ساتھ مختلف علاقوں ميں دہشتگرد گروہوں کے خلاف فوج کا آپريشن بھي جاري ہے -لاذقيہ ميں فوج کے تازہ آپريشن ميں درجنوں دہشتگرد ہلاک ہوئے جن ميں ليبيا، سعودي عرب ، برطانيہ اور ترکي کے دہشتگرد شامل ہيں.دمشق کے مضافات ميں ، درعا، دوما، داريا ، خان الشيخ اور ريما نامي علاقوں ميں بھي فوجيوں کي کارروائيوں ميں درجنوں دہشتگرد مارے گئے ہيں.ادھر حماہ کے علاقے عين اللوزہ ميں فوجيوں نے دہشتگردوں کے اسلحے اور گولے بارود کے ايک گودام پر قبضہ اور بہت سے دہشتگردوں کو گرفتار کرليا.شام کے فوجيوں نے دير الزور ميں بھي دہشتگردوں کے کئي مراکز کو تباہ، اور درجنوں دہشتگردوں کو ہلاک کرديا ہے.
.......
/169