ابنا: پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرقانون رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین میں درج ہے کہ ملکی قوانین قرآن اورسنت کے خلاف نہیں بنائے جاسکتے۔ اگرکوئی سمجھتا ہے کہ آئین میں ایسی چیزہے جو اسلامی نہیں ہے وہ اسے فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج کرسکتا ہے اس نے کہا کہ پاکستان کے قوانین اسلامی آئين کے مطابق ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی عدالتوں نے طالبان کے سنگين جرائم کو روکنے کے لئے اسلامی قوانین کو لاگو نے کیا جس کی وجہ سے طالبان کو کہنا پڑا کہ پاکستان میں اسلامی قوانین موجود نہیں ہیں۔ اگر طالبان دہشت گردوں کو قتل کے بدلے قتل کیا جاتا تو انھیں معلوم ہوتا کہ اسلامی ریاست میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ورنہ سعودی عرب کی نسبت پاکستان میں قدرے اچھا اسلامی جمہوری نظام موجود ہے اور اس نظام کو قبول نہ کرنا طالبان کی بدبختی ہے اگرطالبان کے بعض دہشت گرد رہنماؤں کو اسلامی قوانین کے تحت سزا دی جاتی تو پھر طالبان کو یقین ہوجاتا کہ پاکستان میں اسلامی نظآم نافذ ہے لیکن ایسا نہیں ہوا اور طالبان کے وحشیانہ اور سنگین جرائم کے خلاق پاکستنانی عدالتوں کی غفلت پاکستانی آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
.......
/169