ابنا: ایران کے پارلیمنٹ میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن "محمد اسماعیل کوثری" نے ارنا کے ساتھ گفتگو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے جامع مذاکرات میں جزئی مسائل کو بڑی مراعات واگذار کرنے کے مقابلے میں قبول نہیں کرنا چاہیے تاکید کی کہ ایران کے عوام کو جوہری مذاکرات کار ٹیم سے یہ توقع ہے کہ وہ گروپ پانچ جمع ایک کی بے خواہشات کے مقابلے میں مزاحمت کرے۔ جناب "کوثری" نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی اور ملت ایران کو اپنی مذاکراتی ٹیم پر مکمل اطمینان ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مدمقابل فریق جو درخواست بھی کرے اس کو قبول کرلیا جائے۔ یاد رہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور 18 فروری سے ویانا میں شروع ہوگا۔
.......
/169