اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تکفیری خودکش حملہ آور نے آج پاک ہوٹل کے ساتھ واقع ریسٹورنٹ میں گھس کر دھماکہ کیا جس سے 11 افراد شہید اور تقریبا 40 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ادھر دنیا نیوز کی ویب سائٹ نے لکھا ہے: پولیس کے مطابق قصہ خوانی بازار کے قریب کوچہ رسالدار کے علاقے میں پاک ہوٹل کے اندر ایک خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا جس میں 8 افراد جاں بحق جبکہ 42 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق دھماکے سے ہوٹل مکمل طور پر تباہ ہو گیا گوکہ ابنا کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ہوٹل محفوظ ہے تاہم قریبی ریسٹورنٹ ـ جو ہوٹل ہی کی ملکیت ہے ـ تباہ ہوگیا ہے۔ دنیا نے لکھا ہے: ایس پی سٹی فیصل محتار کے مطابق دھماکا خودکش تھا اور خودکش دہشت گرد کے جسم کے کچھ اعضا بھی مل گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے معمول کے مطابق "دھماکے کے بعد" پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ واضح رہے اتوار کے روز قصہ خوانی بازار کے قریب ایک سینما گھر کے اندر دو دستی بم حملے کیے گئے جس میں پانچ افراد جاں بحق جبکہ 20 زخمی ہو گئے تھے۔ مقامی لوگوں اور سوشل نیٹ ورکس کے صارفین اسی صورت حال کو سامنے رکھ کر حکومت اور طالبان دہشت گردوں کے درمیان مذاکرات کی تیاریوں کی شدید مذمت کررہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ کیسی حکومت ہے جو اپنی عملداری کو چیلنج کرتے ہوئے سرکاری افواج کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کی تیاریاں کرتی ہے؟ کیا یہ کسی بیرونی قوت کے اشارے پر ہورہا ہے؟ اور یہ کہ حال ہی میں آل سعود کے وزیر خارجہ سعود الفیصل ـ جو شام اور عراق میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے حوالے سے بدنام ہیں ـ کے دورہ پاکستان میں آل سعود اور نواز حکومت کے درمیان کس قسم کے خفیہ سمجھوتے ہوئے ہیں؟ کیا تکفیری دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات بھی آل سعود کے اشارے پر ہونا ضروری قرار پائے ہیں؟ مبصرین اور مذاکرات کے مخالفین کا موقف ہے کہ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی میں شامل عمران خان، مفتی کفایت اللہ، پروفیسر ابراہیم، مولانا سمیع الحق اور مولانا عبدالعزیز کو بھی اس دہشت گردانہ کاروائی کا جواب دینا پڑے گا کیونکہ یہ افراد اب طالبان کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ حال ہی میں اسلام آباد میں مقیم عالمی دہشت گرد امریکہ کے سفیر نے کہا ہے کہ "امریکہ کو حکومت پاکستان اور طالبان کے درمیان مذاکرات پر کوئی اعتراض نہيں ہے"۔ طالبان کی مذاکراتی کمیٹی میں شامل عمران خان، مفتی کفایت اللہ، پروفیسر ابراہیم، مولانا سمیع الحق اور مولانا عبدالعزیز کو بھی اس دہشت گردانہ کاروائی کا جواب دینا پڑے گا کیونکہ یہ افراد اب طالبان کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔ شامل ہیں۔ یاد رہے کہ پانچ ستمبر 2008 کو بھی تکفیری دہشت گردوں نے اسی مقام پر خودکش دھماکہ کیا تھا جس میں سینکڑوں شیعہ اور سنی شہید اور زخمی ہوئے تھے۔تازہ ترین اطلاع کے مطابق شہداء میں 9 افراد کا تعلق پاراچنار سے ہے جبکہ زخمیوں میں سات خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭ ـ ۲۴۲
حکومت ـ طالبان مذاکرات کی تیاریاں اور؛
پشاور میں پاک ہوٹل و امام بارگاہ کے قریب تکفیریوں کی دہشت گردی؛ اب تک 11 شہید
3 فروری 2014 - 20:30
News ID: 503022
ایک طرف سے حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان مذاکرات کی تیاریاں ہورہی ہیں تو دوسری طرف سے تکفیری دہشت گردوں نے آج صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے قصہ خوانی بازار کے قریب کوچہ رسالدار میں واقع شیعیان پاراچنار کے ہوٹل اور امام بارگاہ کو دوسری بار نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں اب تک 11 افراد شہید اور درجنوں 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔