اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بحرین میں آل خلیفہ کے قید خانے سے آزاد شدہ سیاسی فعال حسین جواد پرویز نے اللولو ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: مجھ پر اس ملک کے حاکم سے نفرت کا الزام لگایا گیا اور اس کے بعد بغیر کوئی ثبوت پیش کئے ہوئے مجھے گرفتار کر لیا گیا۔ مجھے قید خانے میں مختلف حربوں سے اس بات پر مجبور کیا جا رہا تھا کہ میں سیاسی فعالیت چھوڑ دوں اور حکومتی عہدہ داروں کے خلاف زبان نہ کھولوں۔ انہوں نے کہا: ہم اپنی سیاسی فعالیتوں کو بہر صورت جاری رکھیں گے حتی قید خانوں میں بھی۔ انہوں نے مزید وضاحت کی: ہمیں بغیر کسی جرم کے صرف بے بنیاد الزامات کی وجہ سے جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے تاکہ مختلف طرح کی سزائیں دے کر سیاسی کارکردگیوں سے روکیں۔حسین جواد پرویز نے آل خلیفہ کے قید خانوں میں دی جانے والی سزائوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: قید خانوں میں ناجائز سزائیں اور شکنجے دئے جاتے ہیں بیماروں کو علاج کرانے سے روکا جاتا ہے سردی کے موسم میں گرم لباس پہننے کو نہیں دیا جاتا اور رات کو پولیس کے کتوں کو قید خانوں کے اندر چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ قیدی ان سے ڈریں۔ قید خانوں میں قید بعض ایسے افراد بھی ہیں جو قانونی اعتبار سے قیدی بنائے جانے کی عمر میں نہیں ہیں۔ میں قید خانوں کی صورتحال کی رپورٹ اقوام متحدہ میں پیش کروں گا۔ واضح رہے کہ بحرین میں سینکڑوں ایسے قیدی ہیں جنہیں صرف سیاسی فعالیت کرنے کے الزام میں کئی سالوں سے قید خانوں میں بند کر رکھا ہے اور اقوام متحدہ سمیت کوئی بھی انسانی حقوق کی رٹ لگانے والا ادارہ آل خلیفہ حکومت کے اس اقدام کے خلاف زبان نہیں کھولتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
25 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 500359
بحرین میں آل خلیفہ کے قید خانےسے آزاد ہونے والے ایک شخص نے قید خانوں میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ کی جانے والی بدسلوکی سے پردہ ہٹایا ہے۔