ابنا: صدارتی پریس نوٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر "حسن روحانی" نے سوئیزرلینڈ کے اپنے دورے میں ڈاؤس عالمی اقتصادی فورم میں خطاب کے علاوہ انٹرنیشنل میڈیا کے اعلی حکام سے بھی ملاقات کی جبکہ دنیا کی تیل کی بڑی کمپنیوں کے ڈاریکٹرز کے اجلاس میں بھی تقریر کی اس کے ساتھ ساتھ صدر مملکت نے عالمی اقتصادی منڈیوں کے عہدیداروں سے ملاقات میں ایران میں تجارت کے بہترین مواقع کی نشاندہی ہے۔ صدر مملکت روحانی نے اپنے اس دورے میں سوئیزرلینڈ اور آذربائیجان کے صدور اور ہالینڈ کے وزیراعظم سے بھی ملاقاتیں کی ہیں جبکہ یورپی کمیشن کے سربراہ اور عالمی اقتصادی فورم کے سیکریٹری جنرل سے بھی علحیدہ علحیدہ گفتگو کی ہے اور اس شخصیات سے علاقائی و بین الاقوامی مسائل اور دوجابنہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر حسن روحانی نے ڈاؤس اجلاس کے موقع پر ایران کے تیل و گیس اور تعاون کے مستقبل کے زیر عنواں ایک اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ایران میں ترقی کے مواقع زیادہ اور نقصان کے خطرات بہت کم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایران گیس کے اعتبار سے دنیا کا پہلا اور تیل کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جس نے دنیا کو توانائی کی فراہمی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے اور تہران، تیل و گیس کی صنعتوں کو فروغ دینے کیلئے دنیا کی بڑی بڑی کمیپنیوں کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔صدر مملکت نے اسی طرح سی این این نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف ملکوں کے حکام کو ایرانی قوم سے احترام کے ساتھ گفتگو کرنا ہوگی اسلئے کہ وہ دھونس دھمکی کی زبان سے کبھی مرعوب نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی پابندیوں سے این پی ٹی معاہدہ کمزور ہوگا جس سے عالمی قوانین بھی متاثر ہوں گے۔انھوں نے ایران سے امریکی دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام، امریکہ پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے جس کے ازالے کیلئے امریکہ کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔صدر ایران نے تہران کی جوہری سرگرمیوں کو پرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات سب کیلئے ثابت ہوچکی ہے کہ تہران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے مگر سیاسی محرکات کی بناء پر تہران سے دشمنی کیلئے اس مسئلے کو بہانہ بنایا گیا جبکہ تہران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے اور ایرانی قوم، عالمی قوانین کے دائرے میں اپنے جوہری حقوق کی خواہاں ہے۔
.......
/169