اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام مخالف تنظیموں کے ہمدرد اور لندن میں تعینات "سیرین ہیومین رائٹس مرکز" نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ داعش نے رقیب تنظیموں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد ادلب کے شہر سراقب سے بھی "سرمین" نامی علاقے کی طرف پسپائی اختیار کی ہے۔ مذکورہ مرکز کے ڈائریکٹر "رامی عبدالرحمن" نے کہا کہ داعش کو سراقب میں انتہائی بری صورت حال کا سامنا تھا اور مغرب اور جنوب کی طرف سے مخالف دہشت گرد تنظیموں نے اس کو گھیر لیا تھا چنانچہ وہ جمعہ ک صبح کو اس شہر سے پسپا ہوئی۔ عبدالرحمن کا کہنا تھا: سراقب ادلب میں داعش کا اہم ترین اڈہ تھا اور جنگ سے پہلے یہاں داعش کے 300 جنگجو تعینات تھے جن میں سے درجنوں افراد حالیہ چند دنوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ ادھر حلب کے نواحی قصبے "زیدیہ" میں "جامع مسجد بتول(س)" کے سامنے ایک کار بم دھماکے کی اطلاع ہے جس کی تفصیلات معلوم نہیں ہوسکی ہیں۔ نیز حلب کے مغربی نواحی علاقے "ڈویژن 46" کی چھاؤنی اور "عاجل" نامی قصبے میں داعش اور دیگر دہشت گرد ٹولوں کے درمیان جھڑپوں میں داعش کو مزید پسپا ہونا پڑا اور چھاؤنی کے بڑے حصے کا کنٹرول دوسری تنظیموں نے سنبھال لیا۔ ادھر جرابلس اور اس کے نواح میں بھی داعش اور رقیب تنظیموں کے درمیان شدید جھڑپیں ہورہی ہیں اور ان جھڑپوں میں فریقین کے درجنوں افراد کام آئے ہیں۔ اس شہر میں ایک کار بم دھماکے نیز ایک مارٹر شیل گرنے کی بھ�8���8�طلاعات ہیں جن کی تفصیلات موصول نہيں ہوسکی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
16 جنوری 2014 - 20:30
News ID: 497734
حلب کے نواح میں دہشت گردوں کی باہمی لڑائیاں جاری ہیں اور اپنے ہی پرانے ساتھیوں کے حملوں کے بعد داعش نامی دہشت گرد تنظیم شدید حملوں کی تاب نہ لاکر "ادلب" میں واقع "سراقب" نامی شہر سے بھی پسپا ہوچکی ہے۔