ابنا: شامی صدر کو ہٹانے میں ناکامی پر مایوس باغیوں میں گھمسان کی جنگ جاری اسلام ٹائمز۔ شامی صدر بشار الاسد کو عہدے سے ہٹانے میں ناکامی کے بعد شام میں متحارب باغیوں میں گھمسان کی جنگ جاری ہے، خودکش حملوں، گولہ باری، فائرنگ سے سینکڑوں افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ باغی دھڑوں نے گذشتہ 9دنوں میں ایک دوسرے پر 16 خودکش حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک 700 لوگوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پیر کو القاعدہ سے وابستہ جہادیوں کے گروپ نے الباب قصبے کا کنٹرول باغیوں سے حاصل کرلیا، انہوں نے قصبے میں باغیوں کی تلاش میں گھر گھر تلاشی لی اور درجنوں باغیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ ادھر شام کے وسطی شہر حمص میں حکومت مخالف گروپ کی جانب سے مارٹر حملے میں 19 افراد جاں بحق ہوگئے، میڈیا رپورٹس کے مطابق مارٹر حملے حکومت کے حامی علاقوں گھوٹا اور کرم الشامی میں ہوئے۔
دوسری جانب روس اور امریکہ نے جنیوا میں شام کے حوالے سے ہونے والے امن مذاکرات سے قبل باغی گروپس کے درمیان فائر بندی کے لئے کوششیں تیز کردی ہیں۔ روس کی کوششوں کے بعد شام نے باغیوں کے زیر اثر علاقے میں محصور عوام تک انسانی بنیادوں پر رسائی دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے پیرس میں ملاقات کے بعد کہا کہ حکومت اور باغیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کو یقینی بنانے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جان کیری نے کہا کہ باغیوں نے شورش زدہ علاقوں تک رسائی دینے اور قیدیوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ شامی حکومت کو بھی اپنے اقدامات سے یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ ملک میں امن کے لئے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ شامی حکومت ان علاقوں تک امداد کی رسائی کی اجازت دے گی جہاں لڑائی جاری ہے۔
شام کے معاملے پر بات چیت کے لئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون بھی عراق پہنچ گئے ہیں۔ وہ عراقی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقات میں شامی بحران کے حل اور عراق میں جاری پرتشدد واقعات پر بات چیت کرینگے۔ روس اور امریکہ کے درمیان جنیوا مذاکرات میں ایران کی شمولیت کے حوالے سے ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ روسی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری بحران کے حل میں ایران کا اہم کردار ہوسکتا ہے اور اسے مذاکرات میں شرکت کی دعوت دینی چاہیے۔ تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کو صرف اس صورت مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی جائے گی جب وہ جون 2012ء میں ہونے والے جینوا کانفرنس کے فیصلے کو تسلیم کرے، جس میں شام میں حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جنیوا مذاکرات کا دوسرا دور 22 جنوری سے شروع ہوگا، مغرب کی حمایت یافتہ شامی اپوزیشن کا کہنا ہے کہ وہ اس میں شمولیت کا حتمی فیصلہ جمعہ تک کرلے گی۔
ادھر شام کے صدر بشار الاسد طویل عرصے بعد عوام میں نمودار ہوئے اور انھوں نے دارالحکومت دمشق کی مسجد الحمد میں نماز ادا کی۔ شامی صدر دارالحکومت دمشق کے شمال مغرب میں واقع مسجد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ اس موقع پر مفتی اعظم شام احمد بدرالدین حسون اور وزیراعظم وائل احلقی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ بشار الاسد ایسے وقت میں منظر عام پر آئے ہیں جب شام کے شمالی شہروں میں باغی جنگجو آپس میں برسرپیکار ہیں اور ان کے درمیان گذشتہ دس روز سے جاری لڑائی میں سات سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
.......
/169