ابنا: ايران کے ايٹمي توانائي کے ادارے کے سربراہ علي اکبر صالحي نے ايٹمي سائنسدان رضاقشقائي کي شہادت کي دوسري برسي کے پروگرام ميں جو تہران ميں منعقد ہوا خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ايٹمي سائنس ميں پيشرفت کے لئے ايران اپني کوشش جاري رکھےگا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کے ايٹمي فيصلے اور اس کے پروگرام پر اب کام ہورہا ہے اور يہ عمل اب ناقابل برگشت ہے ۔علي اکبر صالحي نے سنيچر کو اپنے ايک اور بيان ميں اس بات پر زورديتے ہوئے کہ ايراني عوام کو ساٹھ فيصد افزودہ يورينيم کي ضرورت نہيں ہے، کہا کہ اگر کسي دن ايران نے ارادہ کرليا کہ بحري جہازوں يا آبدوزوں کے ايندھن کے لئے اس پيمانے کي توانائي کي ضرورت ہے تو اس کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ ايٹمي ريکٹر سے استفادہ کرے ۔ علي اکبر صالحي نے ايران کے بعض ممبران پارليمنٹ کے اس مطالبے کے بارے ميں کہ يورينيم کو ساٹھ فيصد تک افزودہ کيا جائے کہا کہ اگر پارليمنٹ کے ممبران نے ملک کا مفاد اور مصلحت اسي ميں ديکھي کہ يورينيم کي ساٹھ فيصد تک افزودگي کي جائے اور يہ مطالبہ قانون کي شکل ا ختيار کرليتا ہے تو ہم قانون پر عمل کرنے مجبور ہوں گے۔ايران کے ايٹمي توانائي کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ کئي سال قبل جب اسلامي جمہوريہ ايران نے يورينيم کي افزودگي شروع کي تھي تو وہ اس وقت رضا کارانہ طور پر پانچ فيصد تک ہي يورينيم افزودہ کررہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ البتہ بين الاقوامي ايٹمي ايجنسي کے قانون کے مطابق ايران کسي بھي مقدار ميں اور کسي بھي سطح پر يہ کام انجام دے سکتا تھا ليکن تہران نے اپني ضرورت کے ہي مطابق يورينيم کي افزودگي انجام دي ۔علي اکبر صالحي نے کہاکہ ايران بوشہر کے ايٹمي بجلي گھر کے ايندھن کي فراہمي کي حدتک ہي يورينيم افزودہ کرے گا تاہم اگر پرامن مقاصد کے لئے بيس فيصد افزودہ يورينيم کي ضرورت ہوئي تو دوسرے ممالک اسے فراہم کريں گے اور اگر انہوں نے ايران کو اس کي ضرورت کا بيس فيصد افزودہ يورينيم فراہم کرنے سے انکار کيا تو اس صورت ميں ايران بيس فيصد تک افزودہ کرسکتا ہے۔
.......
/169