اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی حکومت مسلسل فلسطینیوں منجملہ غزہ کے عوام کے خلاف صہیونی ریاست اور اسکی مجرمانہ کاروائيوں کی حمایت کرتی آرہی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ صہیونی ریاست نے غزہ کے لئے کم سے کم غذائي اور طبی وسائل کی ترسیل پر پابندی لگارکھی ہے اور یہ ساری چیزیں صہیونیوں کے ہاتھوں جرائم اور انسانی حقوق کی پامالی شمار ہوتی ہیں۔ رہبرانقلاب اسلامی نے پانچ برسوں قبل گوانتانامو جیل بند کرنے کے امریکی صدر کے وعدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے خلاف امریکہ کے ڈرون حملے اور اس کے دیگر ہزاروں جرائم اور ساری دنیا میں تشدد کے نئے نئے شیووں سے امریکہ کی حقیقی انسانیت سوز ماہیت سامنے آجاتی ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران یہ دعوی کرتا ہےکہ امریکہ اور بہت سی مغربی حکومتیں انسانی حقوق کی پامالی کی ذمہ دار ہیں اور انہيں عالمی رائےعامہ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ مغرب کے ساتھ ایران کے ایٹمی مذاکرات پابندیوں کی وجہ سے نہیں ہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے مفادات کے مطابق جب بھی صحیح سمجھےگا مذاکرات کرے گا اور موجودہ مذاکرات میں ایک بار پھر ایران اور اسلام کے خلاف امریکہ کی دشمنی اور ناتوانی ساری دنیا پر واضح ہوچکی ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ہم نے پہلے بھی اعلان کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خاص مسائل میں اس شیطان یعنی امریکہ کے ساتھ اس کے شر سے بچنے اور مسائل حل کرنے کے لئے مذاکرات کرے گا۔ آپ نے ماضی پر غور کئےجانے اور مثبت اور منفی نکات سے سبق سیکھنے کی ضرورت پر تاکید کی ۔ آپ نے فرمایا کہ کسی کو یہ خیال نہیں کرنا چاہیے اسلامی انقلاب کے دشمن اب اپنی دشمنی سے دستبردار ہوگئے ہیں کیونکہ ممکن ہے دشمن پسپائي اختیار کرلے لیکن ہمیں دشمن کی مسکراہٹ پر اس کا گرویدہ نہیں ہوجانا چاہیے۔ آپ نے فرمایا کہ نو جنوی انیس سو اٹہتر میں اھل قم کے قیام کا ایک اہم پہلو بصیرت کے ساتھ راسخ ایمان پر بھروسہ کرکے سخت ترین حالات میں اقدام و عمل کرنا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اس واقعے کا اہم ترین سبق دشمن کے مقابل راسخ ایمان اور بصیرت سے مشکلات کو حل کرنا اور دشمن کی دشمنی کو فراموش نہ کرنا بلکہ اپنی داخلی توانائيوں پر بھروسہ کرکے دوسرے ملکوں سے امیدیں نہ لگانا ہے۔



























.......
/169