ابنا: علامہ سید ہاشم موسوی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح (رہ) ایک معتدل اسلامی ریاست کی تشکیل کیلئے کوشش کرنے والے ایک عظیم رہنماء تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت کو سیکولر قرار دینا، ان کے ذات سے ناانصافی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان کو تند رو تکفیری گروہوں میں شامل کرنے سے اُن عناصر کی حوصلہ افزائی ہو گی، جو قائداعظم کو کافر اعظم کے عنوان سے ماضی میں یاد کرتے آئے ہیں۔ آج پاکستان کو درپیش مشکلات کی اصل وجہ بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کے زریں اصولوں پر عمل پیرا نہ ہونا ہے۔ آپ حقیقی معنوں میں ایک اسلامی جمہوریہ ریاست کا قیام چاہتے تھے، لیکن اس ملک کے نااہل حکمران پاکستان کی حفاظت نہ کرسکے۔
امام جمعہ کوئٹہ کا مزید کہنا تھا کہ مسیحی برادری کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے، امن و امان کا پرچار کرنا ہو گا۔ مسیحی برادری اپنے ممالک میں تو دہشتگردی کو پسند نہیں کرتے، لیکن اپنے سرمایہ سے تیسری دنیا کے ممالک میں دہشتگردی اور جنگ و جدل کراتے ہیں، جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بےیقینی کی صورتحال کے باوجود راولپنڈی میں چہلم امام حسین (ع) کا جلوس انتہائی عقیدت و احترام سے نکالا گیا اور یہ ملت کے اتحاد اور میدانِ عمل میں موجود رہنے سے ہی ممکن ہو سکا ہے۔ اس موقع پر علامہ سید ہاشم موسوی نے پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ آئندہ بھی سکیورٹی ادارے ملک دشمن قوتوں سے اسی طرح آہنی ہاتھوں نمٹیں گے۔
.......
/169