اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لاہور میں اب تک جتنی بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں، اور اہل تشیع کے جتنے بھی رہنما ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے ہیں، تمام وارداتوں میں 2 موٹر سائیکل سوار ہی ملوث پائے گئے ہیں۔ ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹر سید شبیہ الحسن پر کینٹ جیسے حساس علاقے میں فائرنگ کرنے والے بھی دو موٹر سائیکل سوار تھے۔ ایف سی کالج انڈر پاس کے قریب ممتاز ماہر امراض چشم ڈاکٹر علی حیدر کو بیٹے سمیت شہید کرنے والے بھی دو موٹر سائیکل سوار تھے۔ سپاہ محمد کے سربراہ علامہ غلام رضا نقوی کے داماد اور ان کے مقدمے کی پیروی کرنے والے ڈاکٹر غلام رضا جعفری بھی دو موٹر سائیکل سواروں کا نشانہ بنے۔ ممتاز قانون دان سید شاکر علی رضوی ایڈووکیٹ بھی دو موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے شہید ہوئے۔ اب علامہ ناصر عباس کو بھی دو موٹر سائیکل سواروں نے نشانہ بنایا ہے۔ لاہور پولیس کی بے بسی ہے یا ان دو موٹر سائیکل سواروں کی سرپرستی کہ یہ دو موٹر سائیکل سوار ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں نہیں آ رہے۔ حکمرانوں کو دیکھا جائے تو امن و امان کے قیام کے لئے بلند بانگ دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں، لاہور پولیس کروڑوں روپے کا بجٹ کھا جاتی ہے، جگہ جگہ ناکے ہیں، مجاہد فورس کا گشت الگ ہے، محافظ فورس کی سکیورٹی بھی موجود ہے اس کے باوجود یہ دو موٹر سائیکل سوار ہیں کہ قانون انہیں گرفتار کرنے میں بے بس ہے۔ موجودہ صورت حال دیکھ کر لگتا ہے کہ پولیس مکمل طور پر ان دو موٹر سائیکل سواروں کو بیک اپ فراہم کرتی ہے، ان کو مکمل سکیورٹی دی جاتی ہے، تب ہی یہ اتنی کامیابی سے واردات کرکے موقعہ واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اگر پولیس ان کی سرپرست نہیں تو آئی جی پنجاب خان بیگ تسلیم کریں کہ انہوں نے اپنی فورس میں جوان نہیں ہیجڑے بھرتی کر رکھے ہیں، لیکن موجودہ پولیس فورس کی جگہ یہ چارج ہیجڑوں کو دے دیا جائے تو وہ بھی امن قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، لیکن کیا کیا جائے وزیراعلٰی پنجاب کا انہیں تو قیمتی جانوں سے زیادہ دہشت گردوں کے ووٹ عزیز ہیں، بھلے شیعہ قتل ہوتے رہیں، بھلے قرآن مجید، مساجد، امام بارگاہیں جلتی رہیں، میاں برادران کو ووٹ چاہیں اور بس۔ تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے کہ جہاں ووٹ جانوں سے زیادہ قیمتی ہوجائیں، وہاں کی حکومتیں زیادہ دیر نہیں چلا کرتیں، وہاں اقتدار کا ہما کوئی اور سر تلاش کرتا ہے جس پر سایہ کرسکے۔ ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسی جمہوریت پر جس میں لاشوں پر سیاست ہوتی ہو، جہاں عورتیں بیوہ اور بچے پل بھر میں یتم کر دیئے جاتے ہوں۔ یہاں حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ پاکستان کے تمام مکاتب فکر اس سازش کو سمجھتے ہیں کہ یہ شیعہ سنی کی لڑائی نہیں بلکہ استعمار کی سازش ہے، جس کے تحت پاکستان میں خانہ جنگی کو فروغ دینا مقصود ہے، ایک تکفیری گروہ جس کے منہ کو خون کی چاٹ لگا دی گئی ہے وہ استعمار کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے، لیکن استعمار اپنی اس ناپاک سازش میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اس حوالے سے امریکی غلام حکومت کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا، بصورت دیگر تاریخ کی بوڑھی آنکھوں نے تو فرعون اور شداد جیسے خدائوں کو رسوا ہوتے ہوئے دیکھا ہے، رائے ونڈ کے شریف تو ان خدائوں کے سامنے کچھ بھی نہیں۔تحریر: ابو فجر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
15 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 489084
ہم لعنت بھیجتے ہیں ایسی جمہوریت پر جس میں لاشوں پر سیاست ہوتی ہو، جہاں عورتیں بیوہ اور بچے پل بھر میں یتم کر دیئے جاتے ہوں۔ یہاں حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ پاکستان کے تمام مکاتب فکر اس سازش کو سمجھتے ہیں کہ یہ شیعہ سنی کی لڑائی نہیں بلکہ استعمار کی سازش ہے، جسکے تحت پاکستان میں خانہ جنگی کو فروغ دینا مقصود ہے، ایک تکفیری گروہ جس کے منہ کو خون کی چاٹ لگا دی گئی ہے وہ استعمار کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہا ہے، لیکن استعمار اپنی اس ناپاک سازش میں کامیاب نہیں ہوگا۔