ابنا: امریکہ کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے دہشت گردی پاکستان کے لیے خطرہ ہے، بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنیں، شدت پسندی کے خاتمے کے لئے امریکہ اور بھارت کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات کی کوئی حد نہیں، دونوں ممالک دہشتگردی سے پاک دنیا، جنوبی اور وسطی ایشیا میں استحکام، توانائی بحران کے خاتمے اور ایسے عالمی نظام کے حامی ہیں جس میں قانون کی حکمرانی ہو۔ کونڈولیزا رائس نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنے ملک میں موجود شدت پسند تنظیموں کے خلاف آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ ممبئی حملوں کے بعد آصف علی زداری سے کہا تھا کہ جو کچھ بھی ہوا وہ قابل قبول نہیں، حملوں کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کا حل بھی جلد ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت تمام ممالک جو دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہیں، میں انہیں کہنا چاہوں گی کہ وہ اپنی روش تبدیل کریں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کریں۔ سابق امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ریاستی دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان وہ ملک ہے جس نے اپنی سرحد پر موجود دہشتگردی کی مبینہ کارروائیاں کرنے والے مبینہ گروپوں کے حوالے سے نظریں بند کر رکھی ہیں۔ پاکستان کو ان دہشت گردوں پر دباؤ بڑھا کر ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممبئی حملوں کے بعد جنوبی ایشیا آئی تھیں اور انہوں نے اس وقت پاکستان کے صدر آصف علی زرداری سے کہا تھا کہ اس حوالے سے جو کچھ بھی ہوا وہ ناقابل برداشت ہے اور اس کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس حوالے سے تیزی سے کام نہیں کیا گیا۔ یہ ایک طویل مسئلہ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف تیزی سے کام کیا جاسکتا ہے، تاہم اس پر کئی عشرے لگیں گے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام دہشت گردی سے نجات چاہتے ہیں۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو بھی دہشت گردی کا شکار ہوئیں۔ پاکستان کے ساتھ مل کر اس مسئلے پر کام کرنا چاہتے ہیں۔......./169
7 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 487055
نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب مِیں سابق امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت تمام ممالک جو دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور ریاستی دہشتگردی میں ملوث ہیں، میں انہیں کہنا چاہوں گی کہ وہ اپنی روش تبدیل کریں اور دہشتگردی کیخلاف جنگ کریں۔