6 دسمبر 2013 - 20:30
شامی مندوب: سعودی دہشت گردی پہلے سے کہیں زيادہ فعال

اقوام متحدہ میں عرب جمہوریہ شام کے مستقل مندوب بشار الجعفری نے کہا: سعودی حکومت اور خفیہ ایجنسیوں اور سعودی حمایت یافتہ تکفیری اور وہابی ٹولوں کی طرف سے شام میں مسلحانہ دہشت گردی بالکل ثابت شدہ ہے اور 33 ذرائع ابلاغ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے/ عرب اقوام کی جاہلی دور میں واپسی!

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بشار الجعفری نے جمعرات کی شام کو روسیا الیوم (رشیا ٹوڈے کے عربی چینل) سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: سعودی حکومت نے جنیوا کانفرنس 2 کے لئے وقت کے تعین کے اعلان اور ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری مفاہمت کے بعد اپنی جاسوسی اور عسکری کاروائیوں میں اضافہ کیا ہے اور کرائے کے ہزاروں سعودی دہشت گرد حال ہی میں اردن، اور لبنان کے راستے سے شام میں داخل ہوئے ہیں اور گذشتہ چند روز کے دوران 300 سعودی باشندے گرفتار ہوئے ہیں اور سینکڑوں دیگر ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سزا یافتہ مجرمین اور سعودی فوجی اہلکار شامل ہیں۔ علاوہ ازیں اردن،  ترکی، امریکہ، آسٹریلیا اور یورپ سے بھی کافی تعداد میں دہشت گرد شام میں منتقل کئے گئے ہیں۔ انھوں نے کہا: ہم نے اب تک 261 مراسلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سرگرم ذیلی کمیٹیوں کو بھجوائے ہیں اور چھ مراسلوں میں سینکڑوں غیر ملکی دہشت گردوں کے نام اور شہریت اور دیگر کوائف درج کرکے بھجوائے ہیں اور اقوام متحدہ سے دہشت گردوں اور ان کے حامی ممالک کو سزا دینے کی درخواست کی ہے۔ انھوں نے کہا: ہم جنیوا 2 کانفرنس میں سعودی حکومت کی شرکت کے خلاف نہيں ہیں بلکہ انہیں تو ہماری مخالفت کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ وہ خود ہی پوری طاقت سے اس کانفرنس کے انعقاد میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ ہم تو کانفرنس میں شرکت کرنے والے ہر ملک کا خیر مقدم کرتے ہیں اور جو ممالک اس کانفرنس کے انعقاد کے مقابلے ميں تسدیدی کاروائیاں کررہے ہيں یا اس کو ناکام بنانے کی کوشش کررہے ہيں انہيں ان ممالک کے سامنے جوابدہ ہونا چاہئے جو اس کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے خواہاں ہیں۔  انھوں نے کہا: ہم اپنے لئے ان تمام ممالک سے بازخواست کرنے کا حق محفوظ سمجھتے ہیں جو ہمارے عوام کے قتل عام، ملک کی ویرانی، اغوا اور قتل و ڈکیتی، کارخانوں کو بند کرکے انہيں ترکی منتقل کرنے اور تیل چرا کر یورپی اتحاد کو برآمد کرنے میں ملوث ہیں جبکہ تیل چرانے والی تنظیمیں یورپی ممالک کے ہاں دہشت گردوں کی فہرست میں درج ہیں لیکن یہ اتحاد ان ہی دہشت گردوں سے شام کا چوری شدہ تیل خرید رہا ہے؛ چنانچہ ان ممالک سے ہم ضرور بازخواست کریں گے اور ان کے غلط اور قانون شکن اقدامات کا تاوان ان سے ضرور لیں گے۔  اس شامی سفارتکار نے معلولا کے علاقے کے گرجاگھر مارتقلا سے راہباؤں کے اغوا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں یقین ہے اور سب جانتے ہیں کہ دہشت گرد مغربی ممالک کی مالی اور جاسوسی امداد کے بغیر اس طرح کے اقدامات نہيں کرسکتے۔  انھوں نے کہا: ہمیں حال ہی میں معلوم ہوا کہ ایک سعودی عورت دہشت گردی کے لئے شام روانہ ہوئی ہے اور سعودی حکام نے اس کو جانے دیا ہے تاکہ وہ شام جاکر شامی عوام کا خون بہائے؛ لیکن یہ کیس بات ہے کہ وہ سعودی قوانین کو پامال کرکے کسی محرم شخص کی معیت کے بغیر ملک سے باہر نکلی ہے؟  اس عورت کو کس نے شام آنے کی اجازت دی ہے جس کے ساتھ اس کا کوئی محرم نہ تھا؟ جعفری نے کہا: افسوس کا مقام ہے کہ ہم عربوں میں بعض جاہلی تفکرات آج بھی پائے جاتے ہیں اور آج بھی عرب بچگانہ سوچ کے حامل ہیں اور لگتا ہے کہ عالم عرب ایک بار پھر قبل از اسلام کے جاہلی دور میں واپس چلا گیا ہے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭