3 دسمبر 2013 - 20:30
پرامن شہریوں کو فرقہ واریت کیطرف دھکیلا جا رہا ہے، علامہ امین شہیدی

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ مسجدیں محفوظ ہیں نہ امام بارگاہیں، ملک میں کتے آزاد اور پتھروں کو باندھ دیا گیا ہے۔ ایک ہفتے میں ایک درجن سے زائد شیعہ مسلمانوں کا قتل عام سندھ اور مرکزی حکومت پر سوالیہ نشان ہے۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے کہا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، کالعدم تنظیمیں آزادی کے ساتھ دندناتی پھر رہی ہیں، جنہیں کوئی روکنے والا نہیں ہے، مسجدیں محفوظ ہیں نہ امام بارگاہیں، ملک میں کتے آزاد اور پتھروں کو باندھ دیا گیا ہے۔ ایک ہفتے میں ایک درجن سے زائد شیعہ مسلمانوں کا قتل عام سندھ اور مرکزی حکومت پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن کس چیز کا نام ہے کہ دہشت گرد آزاد پھر رہے ہیں جبکہ پرامن شہریوں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے، اگر ریاست قاتلوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے تو امن کی توقع رکھی جاسکتی ہے ورنہ حکومت اعلان کرے کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے، عوام دہشتگردوں سے خود نمٹیں، پھر دیکھتے ہیں کہ دہشتگرد کس طرح آزادی کیساتھ وارداتیں کرکے فرار ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں کوئی شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایک سازش کے تحت پرامن شہریوں کو فرقہ واریت کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ ریاست تیزی سے ناکامی کی طرف جا رہی ہے۔......./169