اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ۱۷، ۲۰ یا زیادہ سے زیادہ ۲۵ سال کی عمر عنفوان جوانی کے وہ عمر ہوتی ہے جس میں معمولا جوان اسکول، کالج، دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور درس و بحث کی زندگی میں مست و مگن ہوتے ہیں لیکن انہیں جوانوں میں کچھ ایسے نایاب گوہر بھی پائے جاتے ہیں جو اپنی جوانیوں کو خدا کی راہ اور اسلام کے بڑھاپے پر قربان کر دیا کرتے ہیں اور اپنے خون سے شجر اسلام کی رگوں کو تر و تازہ کرتے ہیں۔ایسے ہی کچھ جوان وہ بھی تھے جنہوں نے سر زمین ایران میں نومولود انقلاب اسلامی کو اپنے خون سے جوان کیا۔جس طرح کربلا کے جوانوں کی تاسّی میں ایران کے جوانوں نے اپنی جوانیاں قربان کیں اسی طرح دوسرے ملکوں جیسے بحرین، شام اور لبنان کے شجاع، دلیر اور بامعرفت جوانوں نے بھی اپنی جوانیاں دے کر عزت اور سربلندی کا سودا کیا۔شہادت کا راستہ ابھی بھی کھلا ہوا ہے اور کتنے ایسے مردان مجاہد اور جوانان دلاور ہیں جو ہر آئے دن اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہو کر عاقبت بخیر ہو جاتے ہیں۔اس درمیان کچھ ایسے شہداء بھی نظر آتے ہیں جنہیں جب دفن کیا جاتا رہا ہے تو ان کے چہروں پر ایسی مسکراہٹ ہوتی رہی ہے کہ گویا وہ اس فانی دنیا پر ہنس رہے ہوتے ہیں یا شاید اپنے آقا و مولا سید الشہدا علیہ السلام سے ملاقات کرتے ہوئے مسکرا رہے ہوتے ہیں۔ نہیں معلوم ان کی مسکراہٹ کا راز کیا ہوتا ہے لیکن اتنا تو ضرور معلوم ہے کہ وہ اپنے ہشاش و بشاش چہروں کے ساتھ قبر میں قدم رکھتے وقت یہ ضرور بتانا چاہتے ہیں کہ دیکھو ہمیں مردہ مت کہنا ہم زندہ ہیں اور بارگاہ خداوندی میں ابدی رزق کے حصول کے لیے جا رہے ہیں۔ اور ہاں تم بھی اس وادی میں قدم رکھ سکتے ہو اور ہمارے پیچھے پیچھے مسکراتے مسکراتے آ سکتے ہو۔پہلے شہید: حسن تقی پور گلسفیدیاس شہید کے وصیت نامہ کا ایک حصہ: میں چاہتا ہوں کہ میرے سلسلے میں منعقد کی جانے والے مجالس میں امام حسین علیہ السلام کی نوحہ خوانی کی جائے اور ان کے مصائب پڑھے جائیں تاکہ لوگ ان کے غم میں آنسو بہائیں اور دوسری بات یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ سلمان شہر میں نئے آباد شدہ قبرستان میں دفن کیا جائے اور میں ۱۲ روزوں کا مقروض ہوں اور اسی طرح بہت ساری نمازیں قضا ہوئی ہیں اگر ممکن ہو تو انہیں میری طرف سے ادا کر دیجیے۔ مال دنیا سے میرے پاس کچھ نہیں ہے اگر کچھ ہو جو مجھے اس وقت یاد نہیں ہے توگھر والوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اسے راہ خدا میں انفاق کر دیں تاکہ میں اس دنیا میں خالی ہاتھ اللہ سے ملاقات کروں اور خدانخواستہ کوئی چیز مجھے خود سے وابستہ نہ کرے۔تقی پور جمعرات ۳۲ جنوری ۱۹۸۲ کو پایگاہ شہید بہشتی، کربلا کیمپ، علی ابن ابی طالب (ع) بٹالین میں شہید ہوئے۔









۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲