1 دسمبر 2013 - 20:30
وہ شہدا جو قبر میں قدم رکھتے وقت مسکرائے+تصاویر

اس درمیان کچھ ایسے شہداء بھی نظر آتے ہیں جنہیں جب دفن کیا جاتا رہا ہے تو ان کے چہروں پر ایسی مسکراہٹ ہوتی رہی ہے کہ گویا وہ اس فانی دنیا پر ہنس رہے ہوتے ہیں یا شاید اپنے آقا و مولا سید الشہدا علیہ السلام سے ملاقات کرتے ہوئے مسکرا رہے ہوتے ہیں۔ نہیں معلوم ان کی مسکراہٹ کا راز کیا ہوتا ہے لیکن اتنا تو ضرور معلوم ہے کہ وہ اپنے ہشاش و بشاش چہروں کے ساتھ قبر میں قدم رکھتے وقت یہ ضرور بتانا چاہتے ہیں کہ دیکھو ہمیں مردہ مت کہنا ہم زندہ ہیں اور بارگاہ خداوندی میں ابدی رزق کے حصول کے لیے جا رہے ہیں۔ اور ہاں تم بھی اس وادی میں قدم رکھ سکتے ہو اور ہمارے پیچھے پیچھے مسکراتے مسکراتے آ سکتے ہو۔

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ۱۷، ۲۰ یا زیادہ سے زیادہ ۲۵ سال کی عمر عنفوان جوانی کے وہ عمر ہوتی ہے جس میں معمولا جوان اسکول، کالج، دوستوں کے ساتھ گپ شپ اور درس و بحث کی زندگی میں مست  و مگن ہوتے ہیں لیکن انہیں جوانوں میں کچھ ایسے نایاب گوہر بھی پائے جاتے ہیں جو اپنی جوانیوں کو خدا کی راہ اور اسلام کے بڑھاپے پر قربان کر دیا کرتے ہیں اور اپنے خون سے شجر اسلام کی رگوں کو تر و تازہ کرتے ہیں۔ایسے ہی کچھ جوان وہ بھی تھے جنہوں نے سر زمین ایران میں نومولود انقلاب اسلامی کو اپنے خون سے جوان کیا۔جس طرح کربلا کے جوانوں کی تاسّی میں ایران کے جوانوں نے اپنی جوانیاں قربان کیں اسی طرح دوسرے ملکوں جیسے بحرین، شام اور لبنان کے شجاع، دلیر اور بامعرفت جوانوں نے بھی اپنی جوانیاں دے کر عزت اور سربلندی کا سودا کیا۔شہادت کا راستہ ابھی بھی کھلا ہوا ہے اور کتنے ایسے مردان مجاہد اور جوانان دلاور ہیں جو ہر آئے دن اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں شہید ہو کر عاقبت بخیر ہو جاتے ہیں۔اس درمیان کچھ ایسے شہداء بھی نظر آتے ہیں جنہیں جب دفن کیا جاتا رہا ہے تو ان کے چہروں پر ایسی مسکراہٹ ہوتی رہی ہے کہ گویا وہ اس فانی دنیا پر ہنس رہے ہوتے ہیں یا شاید اپنے آقا و مولا سید الشہدا علیہ السلام سے ملاقات کرتے ہوئے مسکرا رہے ہوتے ہیں۔ نہیں معلوم ان کی مسکراہٹ کا راز کیا ہوتا ہے لیکن اتنا تو ضرور معلوم ہے کہ وہ اپنے ہشاش و بشاش چہروں کے ساتھ قبر میں قدم رکھتے وقت یہ ضرور بتانا چاہتے ہیں کہ دیکھو ہمیں مردہ مت کہنا ہم زندہ ہیں اور بارگاہ خداوندی میں ابدی رزق کے حصول کے لیے جا رہے ہیں۔ اور ہاں تم بھی اس وادی میں قدم رکھ سکتے ہو اور ہمارے پیچھے پیچھے مسکراتے مسکراتے آ سکتے ہو۔پہلے شہید: حسن تقی پور گلسفیدیاس شہید کے وصیت نامہ کا ایک حصہ: میں چاہتا ہوں کہ میرے سلسلے میں منعقد کی جانے والے مجالس میں امام حسین علیہ السلام کی نوحہ خوانی کی جائے اور ان کے مصائب پڑھے جائیں تاکہ لوگ ان کے غم میں آنسو بہائیں اور دوسری بات یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے اپنے دوستوں کے ساتھ سلمان شہر میں نئے آباد شدہ قبرستان میں دفن کیا جائے اور میں ۱۲ روزوں کا مقروض ہوں اور اسی طرح بہت ساری نمازیں قضا ہوئی ہیں اگر ممکن ہو تو انہیں میری طرف سے ادا کر دیجیے۔ مال دنیا سے میرے پاس کچھ نہیں ہے اگر کچھ ہو جو مجھے اس وقت یاد نہیں ہے توگھر والوں سے گزارش کرتا ہوں کہ اسے راہ خدا میں انفاق کر دیں تاکہ میں اس دنیا میں خالی ہاتھ اللہ سے ملاقات کروں اور خدانخواستہ کوئی چیز مجھے خود سے وابستہ نہ کرے۔تقی پور جمعرات ۳۲ جنوری ۱۹۸۲ کو  پایگاہ شہید بہشتی، کربلا کیمپ، علی ابن ابی طالب (ع) بٹالین میں شہید ہوئے۔

دوسرے شہید: محمد رضا حقیقییہ شہید انقلاب اسلامی کی ساتویں سالگرہ کے موقع پر کربلائے اہوازنامی بٹالین کی طرف سے ۱۰ فروری ۱۹۸۶ کو فاو کے کنارے آپریشن کے دوران شہید ہو گئے ان کا پیکر کچھ دنوں کے بعد اہواز میں منتقل کیا گیا اور اہواز میں تشییع جنازہ کے بعد بہشت آبادِ اہواز میں دفن کر دیا گیا۔

تیسرے شہید: شہید رضا قنبرییہ شہید ۹ جنوری ۱۹۸۷ کو شلمچے میں کربلائے ۵ کے آپریشن کے دوران گولی لگنے سے شہید ہوئے۔اس شہید کے وصیت نامہ کا کچھ حصہ: اگر مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے تب بھی میں دین اسلام سے دستبردار نہیں ہوں گا۔ خدا کی قسم اگر مجھ حقیر کی بات مانو تو یہ جان لو کہ اس دنیا کے مال کی کوئی قیمت نہیں ہے اور یہ مالِ دنیا جنگ میں شرکت نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ہے۔ دنیا کی محبت اور ایمان میں کمزوری آپ کو میدان جنگ کی طرف نہیں آنے دیتی۔ ہمیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ ہر ہفتے ہمارے نامہ اعمال امام زمانہ(ع) کی خدمت میں پیش ہوتے ہیں۔ خدا نہ کرے امام زمانہ (ع) ہم سے ناراض ہو جائیں۔ کیا آپ کا خون امام حسین (ع) اور ان کے ساتھیوں کے خون سے زیادہ سرخ ہے؟ یا کیا آپ ان سے زیادہ معصوم ہیں جو راہ خدا میں شہید ہو گئے تاکہ آپ کو یہ آزادی دلائیں؟ آئیں کم سے کم اگر ایمان نہیں رکھتے تو آزاد مرد ہو جائیں۔ دشمن کو اجازت نہ دیں کہ وہ آپ کی سرزمین میں داخل ہو اور آپ کی ناموس تک تجاوز کرے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے: جس نے خود کو پہنچانا اس نے خدا کو پہنچانا۔ آئیں سوچیں اور غور کریں کہ آپ کیا ہیں کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جانا ہے۔

چوتھے شہید: علی المومنانجینئر شہید علی المومن بحرین کے ایک شجاع اور دلاور شہید ہیں جنہوں نے راہ حق و حقیقت میں اپنی جان کی قربانی دی۔بحرین کے ’’لولو‘‘ اسکوائر پر جب آل خلیفہ کے مزدوروں نے مظاہرین پر حملہ کیا تو شہید علی المومن نے خواتین کی جانوں کو بچانے کے لیے خود کو رژیم آل خلیفہ کے سامنے ڈھال بنا دیا۔

پانچویں شہید: حبیب لک زائیبے نام و نمود سپہ سالار، جانثار و رضاکار اور ایک شہید بیٹے کا باپ ۱۶ اکتوبر ۲۰۱۲ بروز شہادت حضرت امام جواد علیہ السلام پاسداران انقلاب اسلامی کی وردی پہنے ہوئے بعثت ہسپتال میں دفاع مقدس کے دوران کے لگے زخموں کی وجہ سے شہید ہو گیا۔

چھٹے شہید: سید وسام شرف الدینشہید سید وسام شرف الدین جو سید نصر اللہ کے نام سے معروف تھے لبنانی فوج کے سپاہی تھے جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضہ اقدس کا دفاع کرتے ہوئے شام میں تکفیریوں کے ہاتھوں شہید ہوئے۔ ان کی شہادت ۲۸ نومبر ۲۰۱۳ کو دمشق کے مضافات میں واقع ہوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲