19 نومبر 2013 - 20:30
پاکستانی طالبان پر پولیو وائرس کو بین الاقوامی سطح پر پھیلانے کا الزام

پاکستانی عسکریت پسندوں کے پولیو ویکسین کے خلاف سخت گیر مؤقف کے باعث یہ وائرس نقل مکانی کر کے شام جا پہنچا ہے اور اب پولیو کا مرض ان علاقوں میں بھی دوبارہ پھیل سکتا ہے جہاں اس کا خاتمہ کر دیا گیا تھا۔

ابنا: شام میں پولیو کے مرض کے دوبارہ نمودار ہونے کا الزام پاکستانی عسکریت پسندوں پر عائد کیا جا رہا ہے۔

پشاور میں 10 نومبر کو ایک ڈاکٹر (بائیں) ایک بچے کا معائنہ کر رہا ہے جسے حال ہی میں پولیو کا مرض ہوا ہے۔ بچے کے والدین نے عسکریت پسندوں کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے اسے پولیو ویکسین پلوانے سے انکار کر دیا تھا۔ [اشفاق یوسف زئی]عالمی ادارہ صحت نے 12 نومبر کو ایک بیان میں کہا کہ شام جو کہ 1999 سے پولیو سے پاک تھا اب وہاں رواں سال پولیو کے 13 واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ جینیاتی تسلسل سے ظاہر ہوا ہے کہ شام کے صوبہ دیر الزور میں پائی جانے والی وائرس کی قسم پاکستان سے آئی ہے۔

عسکریت پسندوں کو اس کا قصور وار ٹھہرانے کی دو وجوہات ہیں۔

پہلی یہ کہ تحریک طالبان پاکستان قبائلی علاقوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو پولیو کے قطروں سے محروم رکھنے کی ہر ممکن کوششیں کرتی رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے پولیو ویکسین پلانے والی ٹیموں کے اراکین پر حملے کیے ہیں اور بعض کو تو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے والدین اور ان کے بچوں کو پولیو ویکسین پینے سے روکنے کے لیے دھمکیاں دی ہیں۔

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں تعینات پولیو افسر ڈاکٹر محمد شعیب نے کہا کہ اس مہم کے نتیجے میں فاٹا کے 10 لاکھ بچے اس مرض میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

شعیب نے کہا کہ فاٹا میں 2013 میں 43 بچوں کے اپاہج ہونے کی ذمہ داری طالبان عسکریت پسندوں پر عائد ہوتی ہے اور وہ غالباً دیگر ملکوں میں بچوں کے متاثر ہونے کے بھی ذمہ دار ہیں کیونکہ اب یہ وائرس پاکستان کی سرحدوں سے باہر بھی جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فاٹا کے ان 43 بچوں کو پولیو ویکسین پلا دی جاتی تو وہ اس بیماری سے بچ سکتے تھے۔

دوسری چیز یہ ہے کہ پاکستان میں تربیت حاصل کرنے والے عسکریت پسندوں کو یہ وائرس لگ سکتا ہے اور وہ اس کے بعد جہاں بھی جائیں اسے اپنے ہمراہ لے جاتے ہیں۔

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے پولیو سیل کے عہدیدار ڈاکٹر مشتاق خان نے کہا کہ عسکریت پسند ماضی میں بھی دیگر ملکوں کو وائرس منتقل کرنے کے ذمہ دار رہے ہیں۔ یہ وائرس اکثر 5 سال سے کم عمر بچوں پر اثر انداز ہوتا ہے مگر یہ بالغوں کے پاخانے میں بھی موجود رہ سکتا ہے اور پھر اس پر بیٹھنے والی مکھیاں اسے بچوں کو منتقل کر سکتی ہیں۔

مشتاق نے کہا کہ اسی وجہ سے شامی حکومت کا یہ الزام غلط نہیں ہے کہ مبینہ طور پر پاکستان سے جا کر باغیوں کے ہمراہ لڑنے والے عسکریت پسند اس وائرس کی ترسیل کے ذمہ دار ہیں۔ وہ شام کی وزیر برائے سماجی امور کندہ الشمات کے اس تبصرے کا حوالہ دے رہے تھے جنہوں نے ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق شام میں وائرس لانے کا الزام جہادیوں پر لگایا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پولیو وائرس کو پنپنے کا موقع دیناتحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسند کافی عرصے سے پاکستان میں انسداد پولیو کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین مسلمانوں کی آبادی کو بڑھنے سے روکنے کی مغربی سازش ہے کیونکہ ان کے بقول ویکسین بچوں کو بانجھ بنا سکتی ہے۔

گزشتہ ایک آدھ سال میں طالبان نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہموں کو روکنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ انہوں نے دسمبر 2012 سے لے کر اب تک خیبر پختونخواہ اور کراچی میں صحت کے عملے کے 30 کارکنوں اور پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو قتل کیا ہے۔

پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کے پولیو کے خاتمے کے ہنگامی رابطہ کار ڈاکٹر ایلیئس ڈری نے کہا کہ حکومت نے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ پولیو کے قطرے پلانے والے اہلکاروں کے خلاف اپنے حملے بند کر دیں اور عوام کو دہشت زدہ کرنا اور پولیو کے قطروں سے محروم رہنے والے بچوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا چھوڑ دیں۔

دینی عالم مفتی انعام اللہ شاہ نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ طالبان کی جانب سے پولیو ویکسین کی مخالفت اسلام کے بنیادی شعائر سے متصادم ہے مگر عوام کو متشدد عسکریت پسندوں کا حکم نہ ماننے پر قائل کرنا بھی کافی دشوار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی احکامات کے مطابق ہم پر اپنے بچوں کو بیماریوں کے خلاف تحفظ فراہم کرنا فرض ہے۔ تمام والدین اپنے بچوں کو معذوریوں سے بچانا چاہتے ہیں مگر وہ طالبان سے ڈرتے ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پولیو ویکسین کی سخت مخالفت کی وجہ سے ہی پاکستان دنیا کے ان تین ملکوں میں شامل ہے جہاں پولیو اب بھی مستقل طور پر موجود ہے۔ باقی دو ملکوں میں نائجیریا (جہاں رواں سال 51 واقعات کی اطلاع ملی) اور افغانستان (جہاں 9 واقعات پیش آئے) شامل ہیں۔ پاکستان میں رواں سال پولیو کے 62 واقعات ہوئے ہیں اور وہ پہلے ہی 2012 کی تعداد سے تجاوز کر چکا ہے۔

شام میں پولیو کے مرض کے نتائجشام میں پولیو کے دوبارہ نمودار ہونے سے عالمی ادارہ صحت کو خدشہ ہے کہ یہ مرض پورے مشرق وسطٰی میں پھیل سکتا ہے۔ طبی اہلکاروں نے گزشتہ سال کے دوران ایک وائرس کا کھوج لگایا ہے جو کہ شام، مصر، اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں پائے جانے والے وائرس سے کافی ملتا جلتا ہے۔

اس کے ردعمل میں ادارے نے اپنی کوششوں میں اضافہ کر دیا ہے مبادا وائرس کہیں اور نمودار نہ ہو جائے۔ اے ایف پی نے نومبر کے اوائل میں بتایا تھا کہ سات ملکوں اور علاقوں میں 2 کروڑ 20 لاکھ بچوں کو اس مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے ویکسین پلانے کی مہموں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ڈری نے کہا کہ فاٹا اور شام جیسے افلاس زدہ یا جنگ زدہ علاقوں میں رہنے والے بچے پولیو میں مبتلا ہونے کے خطرے سے خاص طور پر دوچار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مرض کے دوبارہ منظر عام پر آنے میں چند ملکوں کا کردار رہا ہے جہاں یہ مرض مستقل بنیادوں پر موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک یہ وائرس دنیا میں کہیں نہ کہیں گردش کر رہا ہے، کوئی ملک بھی محفوظ نہیں ہے۔

پاکستان میں اس وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

مشتاق نے کہا کہ ہم اس وائرس کی اپنی سرحدوں سے باہر منتقلی کو روکنے کے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہوائی اڈوں کے بیرون ملک روانگی کے لاؤنجز میں پولیو سے بچاؤ کی ویکسین پلانے کے مستقل کاؤنٹر قائم کریں تا کہ سب کو اس بیماری کے خلاف تحفظ کی ویکسین پلائی جا سکے۔

.......

/169