19 نومبر 2013 - 20:30
علامہ شہیدی کی طرف سے پروفیسر شبیر حسین کو ٹارگٹ کنلگ بنانے کی مذمت

مجلس وحدت مسلمین نے گجرات میں پروفیسر شبیر حسین اور ان کے ڈرائیور کی ٹارگٹ کلنگ کی پرزور مذمت کی۔

ابنا: پاکستان سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے گجرات میں پروفیسر شبیر حسین اور ان کے ڈرائیور کی ٹارگٹ کلنگ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ شرپسند اور فرقہ پرست ٹولے کو کنٹرول کرے جو ملک بھر میں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکانے پر تلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر شبیر حسین کا قتل دراصل علم کا قتل ہے، حکومت قاتلوں کا سراغ لگائے ورنہ پنجاب حکومت کو فرقہ پرستوں سے تعاون کی سزا بھگتنا پڑے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا فی الفور نوٹس نہ لیا تو ملک بھر میں ایسی آگ بھڑک اٹھے گی جسے بجھانا کسی کے بھی بس میں نہیں رہے گا۔علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ جمعہ کے روز یوم نواسہ رسول (ص ) منایا جائیگا اور امن دشمنوں کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔واضح رہے کہ کل یونیورسٹی آف گجرات کے ڈائریکٹر سید شبیر حسین شاہ کی گاڑی پردھشتگردوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سید شبیر حسین شاہ اور ان کا ڈرائیور شھید ہوگئے۔ادھر کوئٹہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق کل سریاب روڈ پر سدا بہار ٹرمینل کے قریب دھشتگردوں نے فائرنگ کرکے ایک شیعہ مسلمان محمد قاسم کو شہید کر دیا۔ سریاب روڈ پر اس سے قبل بھی شیعہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کیا جا چکا ہے اور کہاجاتا ہے کہ سریاب روڈمیں لشکر جھنگوی کی مضبوط پناہ گاہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲