ابنا: مرضیہ افخم نے آج ملکی اور غیر ملکی پریس کانفرنس میں جنیوا میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف نئي پابندیاں لگائے جانے کے بارے میں کہا کہ اخبار اور قرائن سے اس بات کا پتہ چلتاہے کہ مذاکرات کی افادیت سامنے آئي ہے اور پابندیوں میں شدت سے مذاکرات کا مثبت ماحول خراب ہوگا۔مرضیہ افخم نے مزید کہا کہ ایران نے مذاکرات کا آغاز اچھی امید اور حقیقت پسندی کے ساتھ کیا ہے اور اسے اپنے سیاسی عزم و ارادے اور نیک نیتی کی بناء پر توقع ہے کہ ان مذاکرات میں فریق مخالف کی تشویش بھی دور ہوگي اور ایران کی تشویش بھی دور ہوگی اور اس کے ساتھ ساتھ ملت ایران کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور یہ مذاکرات پابندیوں کے خاتمے پر منتج ہوں گے۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے زور دے کر کہا کہ مذاکرات کار ملت ایران کے مسلمہ حقوق کے حصول کے لۓ کوشاں ہیں اور مذاکرات کے دوسرے فریق کو بھی ہر طرح کی مفاہمت میں ملت ایران کے حقوق کا احترام کرنا چاہیۓ۔وزارت خارجہ کی ترجمان نے تاکید کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ایٹمی پروگرام اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور جیساکہ ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی نے کہا ہے کہ پروگراموں کی ماہیت اور ان کے تکنیکی پہلوؤں کے پیش نظر ممکن ہے کہ بعض اوقات یہ پروگرام پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق آگے نہ بڑھ پائيں اور یہ ایک فطری امر ہے۔
.......
/169