16 نومبر 2013 - 20:30

سعود ی عرب سے غیر ملکی مزدوروں کو نکالےجانے کامسئلہ اس ملک کےلئے ایک بڑی مشکل میں تبدیل ہوگیا ہے ۔

ابنا: سعودی عرب سے غیر ملکی مزدوروں کا اخراج ، اس ملک میں صحت عامہ ، عوامی خدمات اور ماحولیات کے بحران میں اضافے  اور سعودی عرب کی بہت سی سڑکوں پر کوڑا کرکٹ جمع ہونے اور گندگی پھیلنے کا سبب بنا ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق رہائشی علاقوں اور حتی مسجد نبوی کے اطراف میں بھی کوڑاکرکٹ اور گندگیوں میں اضافہ ہورہا ہے اور اس ملک کے 20 ہزار اسکول بھی حفظان صحت کی ابتدائی سہولیات سے محروم ہیں اور بہت سے اسکولوں کی بسوں کے لئے ڈرائیور بھی نہیں ہیں ۔ سعودی عرب کی حکومت نے رواں سال کے اوائل سے غیر ملکی مزدوروں کو نکالے جانے کااعلان کیا ہے اور حالیہ ہفتوں میں بیس ہزار سے زائد مزدوروں کو گرفتار بھی کیا گيا ہے ۔ گذشتہ ہفتے سعودی پولس  اور غیر ملکی مزدوروں کےدرمیان ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ۔ سعودی سکورٹی فورسیز نے غیرملکی مزدوروں کی رہائشگاہوں پر حملہ کرکے ان کے اموال اور سامانوں کو بھی تباہ و برباد کردیا ۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب ميں غیر ملکی مزدوروں نےحکومت کے انسانیت سوز رویے کے خلا ف احتجاج کیا ہے ۔گرفتار ہونے والے غیر ملکی مزدوروں کا کہنا ہے کہ سعودی پولس ان کے ساتھ غیر انسانی اور وحشیانہ برتاؤ کرتی ہے ۔ ان مزدوروں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب غلامی کا ملک ہے ۔ سعودی عرب میں تقریبا 90 لاکھ مزدور کام کررہے ہيں کہ جن ميں سے بیشتر کا تعلق جنوب مشرقی ایشیا کے غریب ممالک منجملہ ہندوستان ، فلپائن ، پاکستان  سے ہے اس کے علاوہ یمن اور مصر  اور افریقہ کے اتھیوپی جیسے ممالک کے بھی مزدور کام کرتے ہيں ۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک انہوں نے نو لاکھ غیر ملکی مزدوروں کو ملک سے باہر نکال دیا ہے ۔ سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر محمد نعیم نے اس سلسلے میں کہا کہ سعودی عرب سے 54 ہزار پاکستانی مزدوروں کو نکالا جاچکا ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب کے کفیل ، غیر ملکی مزدوروں سے انتہائی سخت اور محنت کا کام لیتے ہیں جبکہ انہیں  اجرت بہت کم  دیتے ہيں ۔ اورحکومت بھی ان مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی کا مقابلہ کرنے کے بجائے ان مزدوروں کو ہی سرکوب کرتی اور انہیں سعودی عرب سے نکال باہر کردیتی ہے ۔ سعودی عرب سے باہر بھی بعض اتھیوپی نژادوں نے کل سوئڈن  کے دارالحکومت  اسٹاک ہوم ميں سعودی سفارتخانے کےسامنے اجتماع کرکے ، غیر ملکی مزدوروں کے ساتھ سعودی پولس کے غیر انسانی سلوک پر احتجاج کیا ۔ رپورٹوں کے مطابق امریکہ ، ناروے اور جرمنی میں بھی سعودی سفارتخانوں کے سامنے اسی قسم کے مظاہرے کئے گئے ۔ ہیومن رائٹس واچ نے بھی سعودی عرب کے اس اقدام کو لیبر قانون کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی معاہدوں کے منافی قرار دیا ۔ غیر ملکی مزدوروں کے خلاف سعودی پولس کے جارحانہ اقدامات ایسی حالت میں انجام پارہے ہیں کہ اس ملک کے صوبے القطیف میں شیعہ باشندوں نے سخت حفاظتی تدابیر میں محرم کی عزاداری  اور جلوس نکالنے کے ساتھ ہی مظاہروں کے ذریعے بھی آل سعود حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنے غم و غصےکا اظہار کیا ۔ مظاہرین ، سیاسی قیدیوں اور ان میں سر فہرست باقر النمر کی تصویریں اٹھاتے ہوئے تھے کہ جو حکومت کے خلاف عوامی حمایت کی تحریک کے الزام ميں جیل میں قید ہیں ۔ اسی سلسلے میں سعودی عرب کے ایک مشہور سیاستداں  حمزہ الحسن  نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ سعودی عرب کی حکومت زوال اور تباہی کی جانب گامزن ہے کہا کہ سعودی عرب کے سیاسی سرگرم کارکنوں اور انقلابیوں کو آل سعود کے ہاتھوں سرکوب کیا جانا اس امرکا باعث بنا ہے کہ موجودہ حکومت کی سرنگونی کے لئے عوامی تحریک میں روز بروز شدت آئے ۔

.......

/169