اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، ان ذرائع نے بتایا کہ ان دو افراد کو سعودی حکام کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے اور سعودی حکام نے ان کے گھر پر بھی چھاپہ مارا ہے اور اس کی تلاشی لی ہے۔ ان ذرائع نے بتایا کہ ترک حکومت شام کے خلاف برسرپیکار مسلح افراد بالخصوص سعودی باشندوں کو کسی بھی ملک کی درخواست پر گرفتار کرنے کے لئے تیار ہے۔ انھوں نے ایشیا نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ترکی نے کچھ عرصے سے شام آنے والے مسلح افراد کی آمدو رفت کو محدود کردیا ہے۔ ایشیا نیوز کا کہنا ہے کہ ترک حکومت نے کچھ عرصہ قبل داعش کے ایک اہم راہنما راکان الرمیحی کو گرفتار کیا تھا۔ راکان الرمیحی بھی سعودی باشندہ ہے۔ ادھر شام کے کرد یونائٹڈ پارٹی کے سربراہ صالح مسلم نے ترک روزنامے "طرف" سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ترکی نے القاعدہ سے وابستہ گروپوں کی حمایت بند کردی ہے۔ انھوں نے کہا: ہم ترکی کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں، ہم نہ تو شام سے الگ ہوکر خودمختار حکومت کے خواہاں ہیں اور نہ ہی وفاقی حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں؛ ہماری کامیابیاں ترکی کی طرف سے مذکورہ گروپوں کی حمایت محدود ہونے کے مرہون منت ہیں۔ انھوں نے کہا: ترکی کی طرف سے دہشت گرد گروپوں کی عدم حمایت کا ایک سبب بیرونی دباؤ بھی ہے اور پھر یہ دہشت گرد مسلح گروپ ترکی کی سلامتی کے لئے بھی خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ ترکی شام میں مسلح گروپوں کے داخلے کی اصل گذرگاہ سمجھا جاتا ہے اور ان کو امداد اور سامان رسد پہنچانے کا راستہ بھی ترکی کی سرزمین ہے اور اس ملک نے اپنے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی تربیت اور انہیں شام بھجوانے کا انتظام بھی کررکھا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
8 نومبر 2013 - 20:30
News ID: 479693
شامی دہشت گردوں کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ ترک حکام نے گذشتہ ہفتے شام آنے والے خالد الحرابی اور عمر الحرابی نامی دو سعودی دہشت گردوں کو گرفتا کرلیا ہے/ ترکی نے حال ہی میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں کی حمایت بند کردی ہے۔