8 نومبر 2013 - 20:30
مصر میں عزاداری سیدالشہداء(ع)/ وہابیوں کی دھمکی/ پولیس کا حفاظتی اقدامات سے انکار

شیعہ راہنما نے کہا: مصری شیعہ محرم الحرام کے ایام عزاداری کے دوران، مقام الحسین(ع) پر سیدالشہداء علیہ السلام کی عزاداری کریں گے/ وہابی سلفی تبلیغی نے کہا ہے کہ وہ شیعیان مصر کو عزاداری سے روکے گا/ مصری پولیس کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ پولیس عزاداران حسینی(ع) کو تحفظ فراہم نہيں کرے گی۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مصر کی سیاسی جماعت حزب التحریر کے سربراہ ڈاکٹر احمد راسم النفیس نے "اخبارک" نامی نیوز ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیعیان مصر عزاداری کے مراسمات پر سلفی وہابیوں کے حملوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوا کرتے کیونکہ شیعہ شہادت کا مذہب ہے اور چونکہ شیعہ مذہب منطق اور عقل اور ظلم و جور کے خلاف انقلاب کا مذہب ہے اور عزاداری اس جدوجہد کا عملی اظہار ہے چنانچہ جو بھی عزاداری کا دشمن ہے وہ ظلم کے خلاف انقلاب کی منطق کا دشمن ہے۔ النفیس نے کہا: مرسی کے زمانے میں شیعیان مصر کو زيادہ خطروں اور دھمکیوں کا سامنا تھا اور ان کی برطرفی کے بعد ان خطرات اور دھمکیوں میں کمی آئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس سال مصری حکام نے عید غدیر کے دن قاہرہ میں مسجد راس الحسین(ع) کو بند کردیا اور اس مقدس مقام میں زائرین کو نہیں آنے دیا۔ ڈاکٹر نفیس نے انتخابات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شیعیان مصر ایک واحد امیدوار پر ابھی تک اتفاق نہیں کرسکے ہیں اور مصر میں ہمارا انتخاب مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے کیونکہ شیعیان مصر کے مفادات مصر کے دوسرے باشندوں کے مفادات سے الگ نہیں ہیں اور ایک متوازن آئین کسی بھی امتیاز کے بغیر مصری عوام کی حمایت کرتا ہے۔ شیعیان مصر نے ایسے حال میں محرم کے مراسمات مسجد راس الحسین میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ گذشتہ ہجری قمری سال (1434) کے 15 شعبان کے روز الجیزہ کے گاؤں ابو مسلم میں سلفی وہابیوں نے شیعہ عالم دین شہید شیخ حسن شحاتہ اور ان کے چار ساتھیوں کو ان کے گھر سے باہر نکال کر نہایت وحشیانہ طریقے سے شہید کردیا اور ان کے بے جان جسموں کو سڑکوں پر گھسیٹا۔ شیعیان الجیزہ کے شہداء کے 5 قاتلوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے لیکن ان پر ابھی تک مقدمہ نہیں چلایا جاسکا ہے۔ تاہم اٹارنی جنرل آفس کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 23 جون 2013 کو سلفیوں کا ایک گروہ گاؤں کے بعض باشندوں کو اپنے ساتھ ملا کر شیعیان مصر کے ایک راہنما شیخ حسن شحاتہ کے گھر اور اس گھر کے مکینوں پر حملہ آور ہوئے۔ اس حملے میں شیخ حسن شحاتہ اور ان کے دو بھائیوں سمیت 4 افراد شہید ہوئے۔ ادھر ایک سلفی وہابی تبلیغی نے عزاداران امام حسین(ع) کو دھمکیاں دی ہیں اور کہا ہے کہ وہ شیعیان مصر کو عزاداری نہیں کرنے دیں گے۔وہابیوں کے ایک مرکز نام نہاد "اولاد صحابہ" کے سرغنے ناصر رضوان نے کہا ہے کہ یہ مرکز عاشورا کے دن شیعیان مصر کی عزاداری کا مقابلہ کرے گا۔ اس وہابی تبلیغی عنصر نے اخبار الیوم السابع کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: ہم نے مصری عوام سے اپیل کی ہے کہ پورے مصر میں جہاں بھی شیعیان مصر کوئی مجلس یا محفل منعقد کرتے ہیں یا اپنے ہم مسلکوں کو کسی مجلس میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں، وہ اس مرکز کو اطلاع دیں۔اس شخص نے کہا: ہم عاشورا کے دن مسجد و مقام امام حسین(ع) کے سامنے اجتماع کریں گے اور اہل تشیع کی کسی بھی مجلس کے بارے میں حکومت کو اطلاع دیں گے۔ رضوان نے مزید کہا: شیعیان مصر کو آگ سے نہیں کھیلنا چاہئے اور انہیں جان لینا چاہئے کہ مصر ایک سنی ملک ہے اور اس ملک کے عوام صحابہ کے حبدار ہیں اور اہل تشیع کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اس ملک کے امن و سکون کو برباد کریں! اس تشدد پسند تبلیغی نے کہا: ہم نے گذشتہ سال مسجد امام حسین(ع) کو بند کردیا اور اہل تشیع کو اس مسجد میں داخل ہوکر عزآداری کے مراسمات برپا نہیں کرنے دیئے اور ایک شیعہ جو مسجد کی بندش کے وقت سرکاری فورسز کے ساتھ جھگڑنا چاہتا تھا کو گرفتار کیا گیا اور جس طرح کہ ایرانی سیاحوں اور زائرین کو مصر آنے سے منع کیا گیا شیعیان مصر کو بھی مذہبی مراسمات انجام دینے سے منع کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ جس طرح کے ابتدائے طلوع اسلام کے موقع پر مشرکین قریش کعبہ کے زائرین کو روئی دے کر کہا کرتے تھے کہ اپنے کان بند رکھو ورنہ اس شخص ـ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ ـ کی باتیں سن کر مسحور ہوجاؤ گے، وہابی بھی لوگوں کو شیعیان آل رسول (ص) کی صدا سننے سے روکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی منطق نہيں ہے جس کے ذریعے وہ اپنا مدعا ثابت کرسکیں اور منطق کے ذریعے تشیع کے فروغ کا راستہ روک سکیں۔ مصری پولیس نے عزاداران حسینی(ع) کو تحفظ نہيں دے گیصوبہ الجیزہ کے سیکورٹی ادارے میں ایک باخبر ذریعے نے شیعیان مصر کو خبردار کیا ہے کہ خاص طور پر سلفیوں کے اکثریتی علاقوں ميں عزادارای کی مجالس اور جلوسوں سے پرہیز کریںمصری ویب سائٹ الشروق نے مذکورہ ذریعے کے حوالے سے لکھا ہے کہ چونکہ عاشورا کی عزاداری کے مقامات نامعلوم اور مختلف علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں اسی وجہ سے پولیس نے ان مقامات کے تحفظ کے لئے کوئی پروگرام مرتب نہیں کیا ہے سوائے اس وقت کے جب پولیس محسوس کرے کہ عزاداروں کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ اس سیکورٹی اہلکار نے کہا کہ اس جرم کو عزاداری کے ایام میں بھی دہرایا جائے جس کا گذشتہ جون میں شعبان کے ایام میں ارتکاب کیا گیا۔ واضح رہے کہ گذشتہ جون میں شیعہ عالم دین و راہنما شیخ حسن شحاتہ اور ان کے دو بھائیوں اور ایک ساتھی کو سلفی وہابیوں نے قتل کیا، ان کے جسموں کو سڑکوں پر گھسیٹا اور ان کے جسموں کو مثلہ کردیا۔ دریں اثناء مصر کی خفیہ ایجسیوں نے کل (جمعہ 8 نومبر 2013) کو الجیزہ میں شیخ حسن شحاتہ کے قتل کے دو ملزمان کو گرفتا کیا۔ الجیزہ کے کرائمز انویسٹی گیشن مرکز کے سربراہ بریگیڈیئر محمود فاروق نے کہا کہ یہ دو ملزم زوایۂ ابو مسلم نامی گاؤں کی زرعی زمینوں کے عقب میں واقع ایک گھر میں چھپے ہوئے تھے اور پولیس نے گھات لگا کر انہيں گرفتار کیا جن کے نام ر۔م 33 سالہ اور ت۔ف 22 سالہ، ہیں۔ ان دو افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے قتل کے موقع پر موجود لوگوں کو بےجان جسم گھسیٹنے پر اکسایا تھا اور گاؤں کے بعض لوگوں کو ترغیب دلائی تھی کہ ان کے اعضاء و جوارح کاٹ ڈالیں۔

۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭