ابنا: العالم کی رپورٹ کے مطابق مصری سکیورٹی فورسز اور حکام نے قاہرہ میں العالم کے سربراہ کی گرفتاری کی کوئي وجہ نہیں بتائي ہے۔ مصر کی پولیس نے آج صبح احمد السیوفی کے گھر پر حملہ کرکے انہیں گرفتار کرلیا۔ احمد السیوفی کو اس سے قبل رواں برس کے جولائي مہینے میں بھی گرفتار کرکے تفتیش کی گئی تھی۔ مصری حکام نے جولائي میں کہا تھا کہ احمد السیوفی بغیر اجازت کے العالم کی نمائندگي کررہے ہیں۔ پچیس جنوری دوہزار گيارہ کو مصر کے انقلاب کے آغاز سے اب تک پولیس نے العالم کے دفتر پر چار مرتبہ حملہ کیا ہے۔ بعض حملوں میں مصری سکیوریٹی فورسز نے العالم کے دفتر کے کمپیوٹر اور اموال ضبط بھی کرلئے تھے۔ العالم نیوز چینل پر بغیر اجازت کے کام کرنے کا الزام ایسے عالم میں لگا جارہا ہے کہ اس چینل نے اب تک متعدد مرتبہ لائسنس کے لئے درخواست دی ہے اور مصری حکومت نے ماضی کے برخلاف اس مرتبہ لائسنس دینے پر اتفاق کیا ہے۔واضح رہے کہ محمد مرسی کے صدر منتخب ہونے کے کچھ ہی دنوں قبل بھی العالم کے دفتر پر حملہ کیا گيا تھا۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ مصر میں تکفیری وہابی گروہوں نے شیعہ مسلمانوں کو دھمکی دی ہے کہ عاشورا کے دن مجلسوں میں گڑبڑ پھیلائيں گے۔ المصری الیوم ویب سائٹ کے مطابق شیعہ تنظیموں نے چودہ نومبر کو یوم عاشورا کے موقع پر مسجد راس الحسین میں مجلس عزا منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شیعہ رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وہابی انتھا پسند گروہوں کے دہشتگردانہ اقدامات پرروک لگانے کے لئے عزاداروں کو تحفظ فراہم کرے۔ واضح رہے کہ ماہ شعبان میں وہابی دہشتگردوں نے بزرگ عالم دین شيخ حسن شحاتہ کے گھر پر حملہ کرکے انہیں چار ساتھیوں کے ہمراہ بڑی بے رحمی سے شہید کردیا تھا۔
.......
/169