ابنا: اطلاعات کے مطابق چند دن پہلے سکیورٹی دستوں نے ڈاکٹر شیخ یوسف قرضاوی کو نئے امیر قطر شیخ تمیم کا یہ پیغام پہنچایا تھا کہ وہ فوری طور اس کے ریاست کو چھوڑ کر چلے جائیں جس کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ قطر چھوڑ کر کہيں نہیں جائيں گے؛ کیونکہ وہ برسوں سے قطر میں قیام پذير ہیں۔ یاد رہے کہ قرضاوی طویل عرصے سے قطر میں قیام پذیر تھے اور وہ 12 سال کے عرصے سے الجزیرہ ٹی وی چینل پر "شریعت اور زندگی" کے عنوان سے پروگرام پیش کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قرضاوی کے چھوڑنے سے انکار پر پولیس فورسز نے ان کو زد و کوب کیا اور زبردستی ملک بدر کیا اور وہ زخمی حالت میں اپنے پرانے ملک مصر پہنچے جہاں انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے لیکن صحت یاب ہونے پر وہ مصری پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوسکتے ہیں کیونکہ مصر کی سرکار نے پہلے ہی ان کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے ہیں اور انہیں ملک ميں اشتعال انگیزی اور فوج کے خلاف عوام کو بغاوت کی دعوت دینے کا ملزم ٹہرایا ہے؛ جبکہ مصری عوام بھی ان سے خوش نہیں ہیں جیسا کہ شام اور لیبیا کے عوام بھی ان سے سخت ناراض ہیں۔ انھوں نے شام اور لیبیا کے راہنماؤں کے قتل کے فتوے بھی دیئے ہیں اور شام میں بھی فتنہ انگیزی میں برابر کے شریک ہیں جبکہ لیبیا کے مقتول صدر معمر قذافی کے قبیلے نے انہیں قتل کی دھمکی بھی دی ہے۔ .......
/٭۔٭ ـ 169