2 نومبر 2013 - 20:30
سيکورٹي معاہدے پر دستخط کے لئے افغانستان پرامريکا کا دباؤ

امريکا کي طرف سے سيکورٹي معاہدے پر دستخط کے لئے افغان حکومت پر دباؤ بدستور جاري ہے -

ابنا: امريکا نے افغانستان کي حکومت سے کہا ہے کہ وہ اسے اپني امداد اسي وقت جاري رکھے گا جب وہ سيکورٹي معاہدے پر دستخط کردے گي - افغانستان ميں امريکي سفير جيمز کنينگہام نے دھمکي دي ہے کہ اگر کابل - واشنگٹن سيکورٹي معاہدے پر دستخط نہيں ہوئے تو افغانستان کے لئے امريکي امداد اور ايسے بہت سے پروگرام جو اس وقت امريکا کے ذريعے افغانستان ميں جاري ہيں آگے جاري نہيں رہ سکيں گے –کابل ميں امريکي  سفير نے  دعوي کيا کہ واشنگٹن افغانستان ميں اپنے فوجيوں کو عدالتي استثنا دينے پر اصرار نہيں کررہا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ اپنے فوجيوں پر خود مقدمہ چلائے –اس سے پہلے ايک امريکي سينيٹر کارل لوين نے بھي کابل ميں افغان صدر حامد کرزئي سے ملاقات ميں کہا تھا کہ اگر مذکورہ سيکورٹي معاہدے پر دستخط اور امريکي فوجيوں کو عدالتي استثنا دينے کے لئے افغان حکومت تيار نہيں ہوتي تو کابل کے لئے واشنگٹن کي امداد روک دي جائے گي –افغانستان اور امريکا کے درميان مجوزہ سيکورٹي معاہدے سے امريکا کو اس بات کي اجازت مل جائے گي کہ دوہزار چودہ کے بعد بھي وہ اپنے فوجي افغانستان ميں باقي رکھ سکے گا - اس سمجھوتے کي منظوري کے لئے انيس اور بيس نومبر کو افغانستان کے لويہ جرگہ کا اجلاس ہونےوالا ہے.

.......

/169