1 نومبر 2013 - 20:30
ہم امریکہ مردہ باد کا نعرہ اور اور مذاکرات کو ساتھ ساتھ آگے بڑھائیں گے

تہران کے خطیب جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے تہران کی نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے کہا: ہم امریکہ مردہ باد اور مذاکرات کو ساتھ ساتھ آگے بڑھائیں گے اور دنیا والوں سے کہتے ہیں کہ 13 آبان (4 نومبر یعنی یوم مردہ باد امریکہ) کا انتظار کریں۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ سید احمد خاتمی نے جمعہ کے دوسرے خطبے میں آنے والے ہفتے کی مناسبتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: میں اختصار کے ساتھ آنے والے ہفتے کی مناسبتوں کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ پہلی مناسبت تبریز کے شہید امام جمعہ آیت اللہ سید محمد قاضی کی شہادت ہے جو پہلے شہید محراب اور عالم باعمل ہیں۔ گذشتہ ہفتے سنہ 60 ہجری کو یزیدی گورنر عبیداللہ بن زیاد کے ہاتھوں امیرالمؤمنین(ع) کے صحابی میثم تمار کی شہادت کا یوم شہادت اور عالم بزرگوار آیت اللہ العظمی آخوند خراسانی کا یوم وفات تھا جو 105 سال قبل رحلت کرگئے ہیں نیز گذشتہ ہفتے محدث عظیم الشان شیخ عباس قمی کا یوم وفات تھا جن کی کاوش "مفاتیح الجنان" پوری دنیا کے شیعیان آل رسول(ص) کے گھروں کی زینت ہے۔ گذشتہ ہفتے سراوان میں ہمارے عزیز سرحدی محافظین شہید ہوئے۔ یہ اس نوعیت کا پہلا حادثہ نہ تھا اور ممکنہ ہے کہ آخری بھی نہ ہو یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ہم 35 برسوں سے دہشت گردی شکار ہیں، اس کا ایک ثبوت یہی ہے۔   آج امریکہ اور اسرائیل سمیت دہشت گردوں کی پرورش کرنے والے بدنام ترین ریاستوں نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا پرچم اٹھا رکھا ہے؛ اس واقعے میں پاکستان ہماری قوم کے سامنے جوابدہ ہے۔ دہشت گرد ان کی سرحد سے ایران میں داخل ہوئے ہیں ہمارے ملکی حکام ان شاء اللہ کیاست کے ساتھ عمل کریں تاکہ مستقبل میں ہمیں اس طرح کے واقعات نہ دیکھا پڑیں۔ اور دہشت گردوں کو بھی جان لینا چاہئے کہ ہمارا مستحکم اور طاقتور اسلامی نظام ان کو نہایت شدید جواب دی گا اور وہ کچھ بھی نہيں کرسکیں گے۔ آبان کے مہینے میں ہماری تین خاص قسم کی امریکی مخالف مناسبتیں ہیں۔ 4 آبان (26 اکتوبر)  کو امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے کیپیچولیشن (یا امریکہ کے سامنے تابع مہمل بننے کے قانون) کے خلاف تاریخی خطاب کیا تھا جو ایک قوم کی توہین سمجھا جاتا تھا اور امام(رح) نے ملت کو امریکیوں کے خلاف اٹھایا۔ اس تقریر کے بعد 4 نومبر کو طاغوت کے گماشتوں نے امام خمینی(رح) کو گرفتار اور تہران سے ترکی جلاوطن کیا۔ اور برسوں بعد 4 نومبر کو ہی جامعات کے طلبہ نے امریکی جاسوس خانے کو فتح کیا اور امام(رح) نے اس اقدام کو دوسرے انقلاب کا نام دیا۔ آیت اللہ خاتمی نے امریکہ کے بعض جرائم اور اس کی طاغوتی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: استکبار کا عملی نمونہ فرعون ہے۔ فرعون مصری سلاطین کا لقب تھا اور یہ لوگ 3000 سال قبل حکومت کرتے تھے اور حضرت موسی علیہ السلام کے مقابلے میں آنے والے فرعون کا اصل نام ولید بن مصعب تھا جو 1491 قبل از مسیح پیدا ہوا تھا۔ خداوند متعال نے فرعون کو استکبار کی علامت قرار دیا ہے اور اس کی استکباری خصوصیات کو بھی بیان کیا ہے؛ مستکبرین اپنے آپ کو دوسروں سے برتر و بہتر سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو دوسروں کے آقا و سرور سمجھتے ہیں؛ اور اپنے آپ کو دوسری قوموں سے بالکل الگ سمجھتے ہیں؛ کم از کم امریکی حکمران ان خصوصیات کے حامل ہیں۔ امریکہ نے گذشتہ پانچ عشروں میں 25 ممالک پر بلاواسطہ یا پھر بالواسطہ طور پر حملے کئے ہیں؛ اگر اس کا نام تکبر اور دوسروں سے اپنے آپ کو بہتر و برتر سمجھنا نہیں تو اس پر کیا نام رکھا جاسکے گا؟ امریکہ نے اربوں انسانوں کے ٹیلی فون سنے ہیں جن میں 35 عالمی راہنماؤں کے ٹیلی فون بھی شامل ہیں، ان اقدامات کے کیا معنی ہوسکتے ہیں؛ یہ اپنے آپ کو دوسروں کے مافوق سمجھنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ آیت اللہ خاتمی کا کہنا تھا: ملتوں کی تحقیر و تذلیل فرعونوں کا کام ہے اور قرآن میں اس کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ چنانچہ جو لوگ غلط تصورات کا شکار ہیں کہ اگر امریکیوں کے ساتھ رابطہ برقرار کیا جائے تو ملک کے مسائل حل ہوجائیں گے؛ انہیں جان لینا چاہئے کہ تاریخ کی گواہی کے مطابق اس تعلق کی وجہ سے ملک کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ 19 اگست 1953 تک ـ یعنی ـ 57 سال تک شاہی حکومت برطانیہ کے ہاتھ میں تھی اور 19 اگست 1953 سے یہ حکومت امریکیوں کے ہاتھ میں چلی گئی؛ انھوں نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا؟ غربت اور لوٹ مار کا دور دورہ تھا؛ اگر امریکی آجائيں تو وہ دین کے خاتمے کے لئے اقدامات اور استبدادیت و آمریت ساتھ لائیں گے؛ یہ بےتشخص انسان جو امریکی مذاکراتی ٹیم کی رکن ہے بےادبی کی انتہا کرتے ہوئے 1400 سالہ تاریخی و اسلامی پس منظر کی مالک قوم کی اعلانیہ بےحرمتی کرتی ہے؛ اور یہ ان کی استکباری خصلت کا ثبوت ہے۔ تیسری بات یہ کہ فرعون ہمیشہ انتشار اور تفرقہ کے درپے ہیں؛ کون سی چیز ہے جو تکفیریوں کو مسلمانوں کی جانوں پر مسلط کرتی ہے؛ ہر روز عراق میں عراقی عوام خودکش حملوں میں قتل ہورہے ہیں؛ شام اور پاکستان میں ان تمام کاروائیوں کے تانے بانے امریکیوں اور سعودی عرب سمیت ان کے حلیفوں سے جاملتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو انہیں کاروائی کے لئے آمادہ کرتے ہيں اور ان کی پشت پناہی کرتی ہیں۔ ان کاروائیوں پر بہت بڑے اخراجات آتے ہيں اور خطے کے قارونوں کے سوا اتنے بھاری اخراجات کوئی بھی برداشت نہیں کرسکتا اس کی دلیل مسلمانوں کے درمیان ڈالی گئی گہری دشمنی اور اختلاف ہے۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا: دھمکیاں دینا بھی استکبار کا کام ہے؛ امریکہ اب صرف ملت ایران کو ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی دھمکیاں دیتا ہے؛ ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا افغانستان سے تم نفرت کے سوا کچھ حاصل کرسکے ہو؟ تم نے عراق میں مداخلت کی اور 10 سال بعد اپنا مقصد حاصل کئے بغیر عراق سے بھاگنے پر مجبور ہوئے وہ بھی تم نے ایسے ممالک کو نشانہ بنایا جو ایران کی طرح طاقتور نہ تھے؛ تم ملت ایران کا مقابلہ کرنے کے اہل نہيں ہو؛ اس ملت کے ہر فرد نے امام خمینی(رح) کا یہ ارشاد گوش گذار کرلیا ہے کہ "اگر ایک ذرہ برابر اس قوم کو نقصان پہنچانا چاہو  تو ہم امریکہ کے دانت اس کے منہ کے اندر توڑ دیں گے"۔ انھوں نے کہا: مستکبرین کا پانچواں کام تشدد اور ٹارچر ہے؛ امریکہ ان جرائم اور تشدد کی کاروائیوں میں ملوث ہے؛ گوانتاناموں میں کیا ہورہا ہے؛ وہ اذیتکدہ  جس کو بند کرنے کا امریکی صدر اوباما نے وعدہ دیا تھا لیکن وہ بھی اپنی صدارت میں ان ہی جرائم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یورپ میں امریکی خفیہ جیلوں کا کام یورپیوں کو ٹارچر کرنا ہے؛ مضحکہ خیز ہے کہ انسانی حقوق کا خاص رپورٹر اس مجرم کو نہیں دیکھتا جو انسانی حقوق کو پامال کرنے والوں کے اگلے مورچے میں بیٹھا ہے؛ اور ایران کے خلاف انسانی حقوق کی وہ رپورٹ شائع کرتا ہے جو ایرانی دہشت گرد اس کے لئے لکھتے ہیں!۔ ظاہر ہے کہ دہشت گردوں کی لکھی ہوئی یہ رپورٹیں بےبنیاد اور ناقابل توجہ ہیں۔ انھوں نے کہا: قرآن کی نگاہ میں استکبار کے سامنے واحد راہ حل مزاحمت اور استقامت ہے۔ صبر اور ظفر دو قدیمی دوست ہیں۔ امریکہ نے عملی طور پر ثاہت کرکے دکھایا ہے کہ اس نے آج تک مذاکرات کے ذریعے کسی کو کچھ نہيں دیا ہے؛ وہ صرف مزاحمت کی زبان سمجھتے ہیں؛ جب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ آشکارا کہتی ہے کہ "ہم دباؤ اور مذاکرت کو ایک ساتھ آگے بڑھاتے ہیں" ہم بھی کہتے ہيں کہ "ہم اللہ کے فضل سے مرگ بر آمریکہ کا نعرہ اور مذاکرات کو ایک ساتھ آگے بڑھاتے ہیں"۔ انھوں نے کہا: ہمارا مدعا یہ ہے کہ مزآحمت اور استقامت کا جذبہ ہے جو امریکیوں کہ جواب دیتا ہے؛ البتہ ہم عزت، حکمت اور مصلحت کی بنیاد پر بہادرانہ لچک کے امام خامنہ ای کے دکھائے ہوئے قواعد کے تحت فعال سفارتکاری کو بھی امریکیوں کے مقابلے میں مزاحمت اور استقامت کے زمرے میں ہی شمار کرتے ہیں۔ سفارتکاری کا میدان جنگ کا میدان ہے اور ہم اس سفارتکاروں کو آفرین کہتے ہیں اور ان کی کارکردگی کو سراہتے ہں جو رہبر معظم امام خامنہ کی ہدایت کے دائرے میں کام کررہے ہیں اور صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ آپ کی وہ کوششیں جو رہبر انقلاب کی ہدایات و احکامات کے نفاذ کے حوالے سے عمل میں لائیں جاتی ہیں انہیں ملت ایران کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا: پس اگر دنیا ملت ایران کا موقف دیکھنا چاہتی ہے تو 4 نومبر کا انتظار کرے اور اللہ کے فضل سے گذشتہ سالوں سے بھی زيادہ شاندار انداز سے مرگ بر آمریکا کی گونج دنیا والوں کی سماعتوں تک پہنچائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭