اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ نے "شام پریس" کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ صدر اسد نے ابراہیمی سے کہا کہ اقوام متحدہ دہشت گردی کے حامی ممالک پر دباؤ ڈالے تاکہ مذاکرات کے لئے مناسب ماحول فراہم ہوسکے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے مقررہ اہداف کا حصول ممکن ہوسکے۔ بشار اسد نے کہا: صرف شامی عوام کو اپنے ملک کی قسمت اور مستقبل کے تعین کا حق پہنچتا ہے اور ہر وہ حکمت عملی قابل قبول ہے جو شامی عوام کے قبول ہو اور ان کی خواہشات کی ترجمانی کرے اور کوئی بھی بیرونی مداخلت ہمارے یہاں نامنظور ہے۔ اخضر ابراہیمی نے جنیوا 2 کانفرنس کے سلسلے میں صدر بشار اسد سے تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ جنیوا 2 کانفرنس کا مقصد یہی ہے کہ شامی عوام اور سیاسی جماعتیں مل کر موجود بحران کو جلد از جلد حل کریں۔ انھوں نے کہا کہ شامی قوم ہی اپنے ملک کی قسمت کا فیصلہ کرسکتی ہے اور اسی قوم کو ہی ـ بغیر کسی بیرونی مداخلت کے ـ اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہے۔ اخضر ابراہیمی نے تین بار وزیر خارجہ ولید المعلم سے ملاقات کی ہے اور شام کی قانونی اپوزیشن جماعتوں نیز دمشق میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر سے بھی ملاقات اور بات چیت کی ہے۔ شام کے بحران میں اب تک 120000 ہزار افراد موت کے بھینٹ چڑھے ہیں اور ایک کھرب ڈالر کا زیادہ نقصان اس ملک کی قسمت میں آیا ہے اور اتنے بڑے نقصانات پر آنے والی اربوں ڈالر کی لاگت، سعودی عرب، قطر اور بعض دیگر خلیجی ریاستوں نے برداشت کی ہے جبکہ اس کا فائدہ صرف اسرائیل کو ملا ہے جبکہ ترکی کو دہشت گردوں کی لاجسٹک امداد کے نتیجے میں اندرونی سطح پر عوامی بغاوتوں کا سامنا ہے۔ امریکہ، اسرائیل، ترکی اور خلیج فارس کی عرب ریاستیں اس بحران کو بھڑکانے کے لئے عسکری اور مالی امداد فراہم کررہے ہیں اور جب سے جنیوا 2 کانفرنس کے انعقاد کے امکانات روشن ہوئے ہیں سعودی عرب نے سبوتاژ کی کوششوں کو دو چند کردیا ہے جبکہ عراق میں بھی چند روز قبل 100 سعودی دہشت گرد ـ جو محرم میں خودکش دھماکوں کے لئے اس ملک میں دراندازی کرکے داخل ہوئے تھے ـ گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭ شام میں دہشت گردوں کے لئے اسلحہ اسمگلنگ کا پرامن راستہ "ترکی"
31 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 477247
صدر اسد نے اخضر ابراہیمی سے کہا کہ اقوام متحدہ شام کے خلاف برسر پیکار دہشت گردوں کی امداد فوری طور بند کرا دے۔