25 اکتوبر 2013 - 20:30
بندر بن سلطان نے قذافی کے بےروزگار وزیر خارجہ کو روزگار فراہم کیا!

بندر بن سلطان آل سعود نے لیبیا کے سابق انٹیلجنس چیف اور وزير خارجہ موسی کوسا کو شام اور افریقہ میں سعودی اہداف کے لئے استعمال کرنے کے لئے بھرتی کرلیا ہے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے الاخبار نامی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ قذافی کے آخری وزیر خارجہ کو بندر بن سلطان نے شام اور افریقہ میں اپنے مقاصد کے لئے کام پر لگا لیا ہے اور اب وہ سعودی انٹیلجنس کے لئے کام کریں گے۔ موسی کوسا سنہ 1994 سے 2009 تک قذافی استبدادیت میں انٹلیجنس چیف کی حیثیت سے لیبیائی قوم کو کچلنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں جو 2009 کے بعد وزیر خارجہ بنائے گئے تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق موسی کوسا بین الاقوامی سطح کے مسائل کے ماہر بھی ہیں اور سیکورٹی کے حوالے سے بھی کہنہ مشق مانے جاتے ہیں اور وہ اب بندر بن سلطان سے وابستہ ہوگئے ہیں تکہ شام اور مصر و تیونس میں سعودی مقاصد کے حصول میں آل سعود کا ہاتھ بٹائیں۔ الاخبار نے لکھا ہے کہ موسی کوسا کو اس سال آل سعود نے حج کے لئے بلوایا تھا اور حج کے ایام میں ہی بندر بن سلطان نے ان کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کی اور شام اور مصر وغیرہ کے مسائل کے بارے میں ان کے درمیان مفاہمت ہوئی۔ قابل ذکر ہے کہ قذافی کے شدید مخالفین بھی القاعدہ کے سانچے میں شام پہنچے ہوئے ہیں اور آل سعود کے لئے کام کررہے ہیں اور اب قذافی کا جگری یار بھی سعودی مفادات کی خدمت کرنے لگے ہيں جو اس بات کی غماز ہے کہ شام کو امریکی اور اسرائیلی اہداف کی خاطر تباہ کیا جارہا ہے اور آل سعود اس حوالے سے کسی عقیدے کی پیروی نہیں کرتے۔ الاخبار لکھتا ہے کہ بندر بن سلطان موسی کوسا سے مغربی انٹیلجنس اداروں کی معلومات بھی حاصل کررہے ہیں جو کسی وقت موسی کوسا کے ساتھ قریبی تعاون کررہے تھے جبکہ اقریقی ممالک کے بارے میں موسی کوسا کی مہارت اور معلومات بھی بندر کے لئے بہت اہم ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭