ابنا: فرانس ميں کوسوو کي ايک طالبہ کو اس کے گھروالوں کے ہمراہ ملک سے نکال ديئے جانے کے بعد فرانسوا اولينڈ کي سوشلسٹ حکومت کو شديد تنقيدوں کا سامنا ہے۔حکومت پر ہونےوالي ان تنقيدوں کے درميان فرانس کي گرين پارٹي نے بھي کوسوو کي طالبہ کو فرانس سے نکالنے کے حکومت کے فيصلے کي مخالفت کي ہے ۔ حکومت کي اتحادي گرين پارٹي نے ايک بيان جاري کرکے کوسوو کي طالبہ اور اس کے گھروالوں کو فرانس سے نکال ديئےجانے کے بارے ميں صدر فرانسوا اولينڈ اوروزير داخلہ مانوئل والس کے بيانات کو انسانيت سے دور اور ناقابل فہم قرارديا ہے۔ حکومت کي اتحادي جماعت گرين پارٹي کے ترجمان اليز لاوي نےکوسوو کي طالبہ اور اس کے گھروالوں کو دوبارہ فرانس واپس بلائے جانے کا مطالبہ کيا ہے۔ فرانس کي گرين پارٹي کے ترجمان نے صدر اولينڈ کے ذريعے ايک کنبے کے افراد کے حقوق کو نظر انداز کئےجانے کو بين الاقوامي کنونشن کے منافي بتايا ہے ۔ حکمراں سوشلسٹ پارٹي کے بھي بہت سے ارکان نے حکومت اور خاص طور پر وزير داخلہ کے اقدام پر تنقيد کي ہے ۔واضح رہے کہ کوسوو کي طالبہ لئونار دا بيراني کو گزشتہ نو اکتوبر کو جب وہ اسکول بس ميں سوار ہوکر اسکول جارہي تھي اس کي کلاس کي ساتھيوں کي آنکھوں کے سامنے فرانسيسي پوليس نے بس سے نيچے اتار ديا اور اس کو گرفتار کرکےاس کے گھروالوں کے ہمراہ فرانس سے باہر نکال ديا ۔ فرانسيسي حکومت کے اس اقدام پر پورے ملک ميں غم وغصے کي لہردوڑ گئي اور فرانس ميں مختلف گروہوں نے مظاہرے کرکے مذکورہ طالبہ اور ا س کے گھروالوں کو دوبارہ فرانس بلانے کا مطالبہ کيا ۔ بالآخر کئي دنوں کي سياسي کشمکش کے بعد فرانس کے صدر اولينڈ نے حالات کو پرسکون بنانے کےلئے وزارت داخلہ کے اقدام کو قانون کے عين مطابق قرارديتے ہوئے کہا کہ کوسوو کي طالبہ اگر چاہے تو اپنے گھر والوں کے بغير فرانس آکرتعليم کو جاري رکھ سکتي ہے ۔ مگر فرانسيسي صدر کے اس بيان سے نہ صرف يہ کہ احتجاج اور مظاہروں ميں کمي واقع نہيں ہوئي بلکہ ان پر تنقيدوں کا سلسلہ مزيد تيز ہوگيا ۔پارليمنٹ ميں حزب اختلاف کي جماعتوں کے ممبران نے سوشلسٹ حکومت کے اس اقدام کي سخت الفاظ ميں مذمت کي اور بعض ممبران نے تو وزير داخلہ کے استعفے کا بھي مطالبہ کرڈالا ۔ فرانس ميں حزب اختلاف کي سب سے بڑي جماعت کےسربراہ نے بھي مہاجرت يا اميگريشن کي پاليسي کے بارے ميں فرانسيسي صدر کي خاموشي پر تنقيد کي ہے ۔ حزب اختلاف کي جماعت او ايم پي کے سربراہ جان فرانسوا کوپے نے کہا ہے کہ صدر اولينڈ کو موجودہ صورتحال کي ذمہ داري قبول کرني چاہئے ۔ حزب اختلاف کے ليڈر کوپے نے کوسوو کي طالبہ اور اس کے گھروالوں کے لئے پيش آنےوالي صورتحال کو فرانسيسي معاشرے ميں غيرملکيوں کے ضم ہونے کے عمل کي بري طرح ناکامي سے تعبير کيا اور مطالبہ کيا کہ اميگريشن کے قوانين ميں تبديلي کي جائے ۔ فرانسيسي صدر کے بيان پر فرانس کے اخبارات ميں بھي کافي تنقيد کي گئي ہے ۔
.......
/169