ابنا: اطلاعات کے مطابق اس تیونسی عورت نے اعتراف کیا ہے کہ وہ عورتوں اور لڑکیوں کو دین کے دفاع کے بہانے سے جہاد کے لئے آمادہ کرتی تھی اور اس کام کے لئے اسے ہر لڑکی کے بدلے میں 3000 دینا دیئے جاتے تھے، البتہ عورتوں اور لڑکیوں کی عمر کے لحاظ سے اس عورت کی فیس متفاوت ہوتی تھی۔ جب تیونسی لڑکیاں جہاد النکاح کے لئے تیار ہوجاتی تھیں تو انھیں ترکی اور لیبیا کے سرحد سے شام میں بھیجا جاتا ہے اس عورت کو اس سلسلے میں سعودی عرب کے سلفی وہابی ملاؤں کے جہاد النکاح کے فتوے کی پشتپناہی بھی حاصل تھی سعودی عرب کےسلفی وہابی ملا، دہشت گردوں کی جنسی تسکین کے لئے فتوؤں کے ذریعہ عرب عورتوں کی شام جانے کے لئے تشویق کرتے تھے۔ کئی درجن تیونسی عورتیں جہاد النکاح کے شوق میں ایڈز کی بیماری میں مبتلا ہوگئی ہیں وہابی ملاؤں کے ان فتوؤں کی عالم اسلام میں بھر پور مذمت کی گئی جس کے بعد عرب عورتوں کی شام میں رفت و آمد میں بڑے پیمانے پر کمی واقع ہوئي ہے ذرائع کے مطابق اب اردوغان کی ترک حکومت کی حامی عورتیں اس ذمہ داری کو نبھا رہی ہیں۔......./169
جہاد النکاح کی وہابی بدعت؛
دہشت گردوں کو تیونسی لڑکیاں فراہم کرنے کے جرم میں تیونسی عورت کو قید کی سزا
18 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 473702
تیونس کی ایک عدالت نے شام میں القاعدہ دہشت گردوں کی جنسی تسکین کے لئے عرب اور تیونسی لڑکیاں فراہم کرنے کے جرم میں ایک تیونسی عورت کو قید کی سزا سنا کرجیل بھیج دیا ہے۔