13 اکتوبر 2013 - 20:30
دعائے عرفہ امام حسین علیہ السلام(1)

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی لَیْسَ لِقَضائِہِ دافِعٌ، وَلاَ لِعَطائِہِ مانِعٌ، وَلاَ کَصُنْعِہِ صُنْعُ صانِعٍ
حمد ہے خدا کے لیے جس کے فیصلے کو کوئی بدلنے والا نہیں کوئی اس کی عطا روکنے والا نہیں اور کوئی اس جیسی صنعت والا نہیں 
وَھُوَ الْجَوادُ الْواسِعُ، فَطَرَ ٲَجْناسَ الْبَدائِعِ، وَٲَ تْقَنَ بِحِکْمَتِہِ الصَّنائِعَ، لاَ تَخْفی
اور وہ کشادگی کیساتھ دینے والاہے اس نے قسم قسم کی مخلوق بنائی اور بنائی ہوئی چیزوں کو اپنی حکمت سے محکم کیا دنیا میں آنے والی کوئی 
عَلَیْہِ الطَّلائِعُ، وَلاَ تَضِیعُ عِنْدَہُ الْوَدائِعُ، جازِی کُلِّ صانِعٍ، وَرایِشُ کُلِّ قانِعٍ
چیز اس سے پوشیدہ نہیں اس کے ہاں کوئی امانت ضائع نہیں ہوتی وہ ہر کام پر جزا دینے والا ہے وہ ہر قانع کو زیادہ دینے والا اور ہر 
وَراحِمُ کُلِّ ضارِعٍ وَمُنْزِلُ الْمَنافِعِ وَالْکِتابِ الْجامِعِ بِالنُّورِ السَّاطِعِ وَھُوَ
نالاں پر رحم کرنے والا ہے وہ بھلائیاںنازل کرنے والا اور چمکتے نور کے ساتھ مکمل و کامل کتاب اتارنے والا ہے وہ لوگوںکی 
لِلدَّعَواتِ سامِعٌ، وَ لِلْکُرُباتِ دافِعٌ، وَ لِلدَّرَجاتِ رافِعٌ، وَ لِلْجَبابِرَۃِ قامِعٌ، فَلا إلہَ
دعاؤں کا سننے والا لوگوںکے دکھ دور کرنے والا درجے بلند کرنے والا اور سرکشوں کی جڑ کاٹنے والا ہے پس اس کے سوا کوئی 
غَیْرُہُ وَلاَ شَیْئَ یَعْدِلُہُ، وَلَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْئٌ، وَھُوَ السَّمِیعُ الْبَصِیرُ اللَّطِیفُ الْخَبِیرُ
معبود نہیںکوئی چیز اس کے برابر کوئی چیز اس کے مانند نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے باریک بین خبر رکھنے والا ہے 
وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ۔ اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَرْغَبُ إلَیْکَ وَٲَشْھَدُ بِالرُّبُوبِیَّۃِ لَکَ مُقِرّاً بِٲَنَّکَ 
اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ! بے شک میں تیری طرف متوجہ ہوا ہوں تیرے پروردگار ہونے کی گواہی دیتا اور 
رَبِّی، وَٲَنَّ إلَیْکَ مَرَدِّی، ابْتَدَٲْتَنِی بِنِعْمَتِکَ قَبْلَ ٲَنْ ٲَکُونَ شَیْئاً مَذْکُوراً، وَخَلَقْتَنِی 
مانتاہوں کہ تو میرا پالنے والا ہے اور تیری طرف لوٹا ہوں کہ تو نے مجھ سے اپنی نعمت کا آغاز کیا اس سے پہلے کہ میں وجود میں آتا اور تو 
مِنَ التُّرابِ ثُمَّ ٲَسْکَنْتَنِی الْاَصْلابَ آمِناً لِرَیْبِ الْمَنُونِ وَاخْتِلافِ الدُّھُورِ وَالسِّنِینَ
نے مجھ کو مٹی سے پیدا کیا پھر بڑوں کی پشتوں میں جگہ دی مجھے موت سے اور ماہ وسال میں آنے والی آفات سے امن دیا پس میں 
فَلَمْ ٲَزَلْ ظاعِناً مِنْ صُلْبٍ إلی رَحِمٍ فِی تَقادُمٍ مِنَ الْاَیَّامِ الْماضِیَۃِ وَالْقُرُونِ 
پے در پے ایک پشت سے ایک رحم میں آیا ان دنوں میں جو گزرے ہیں اور ان صدیوں میں جو بیت چکی 
الْخالِیَۃِ لَمْ تُخْرِجْنِی لِرَٲْفَتِکَ بِی وَلُطْفِکَ لِی وَ إحْسانِکَ إلَیَّ فِی دَوْلَۃِ ٲَئِمَّۃِ الْکُفْرِ 
ہیں تو نے بوجہ اپنی محبت و مہربانی کے مجھ پر احسان کیا اور مجھے کافر بادشاہوں کے دور میں پیدا نہیں کیا کہ جنہوں نے تیرے فرمان کو 
الَّذِینَ نَقَضُوا عَھْدَکَ وَکَذَّبُوا رُسُلَکَ، لَکِنَّکَ ٲَخْرَجْتَنِی لِلَّذِی سَبَقَ لِی مِنَ الْھُدَی 
توڑا اور تیرے رسولوں کو جھٹلایا لیکن تو نے مجھ کو اس زمانے میں پیدا کیا جس میں تھوڑے عرصے میں مجھے 
الَّذِی لَہُ یَسَّرْتَنِی وَفِیہِ ٲَنْشَٲْتَنِی وَمِنْ قَبْلِ ذلِکَ رَؤُفْتَ بِی بِجَمِیلِ صُنْعِکَ وَسَوابِغِ 
ہدایت میسر آگئی کہ اس میں تو نے مجھے پالا اور اس سے پہلے تو نے اچھے عنوان سے میرے لیے محبت ظاہر فرمائی اور بہترین نعمتیں 
نِعَمِکَ فَابْتَدَعْتَ خَلْقِی مِنْ مَنِیٍّ یُمْنی، وَٲَسْکَنْتَنِی فِی ظُلُماتٍ ثَلاثٍ بَیْنَ لَحْمٍ وَدَمٍ 
عطا کیں پھر میرے پیدا کرنے کاآغاز ٹپکنے والے آب حیات سے کیا اور مجھ کو تین تاریکیوں میں ٹھرادیا یعنی گوشت خون اور جلد کے 
وَجِلْدٍ لَمْ تُشْھِدْنِی خَلْقِی، وَلَمْ تَجْعَلْ إلَیَّ شَیْئاً مِنْ ٲَمْرِی، ثُمَّ ٲَخْرَجْتَنِی لِلَّذِی 
نیچے جہاں میں نے بھی اپنی خلقت کو نہ دیکھا اور تو نے میرے اس معاملے میں سے کچھ بھی مجھ پر نہ ڈالا پھر تو نے مجھے رحم مادر سے 
سَبَقَ لِی مِنَ الْھُدیٰ إلَی الدُّنْیا تامّاً سَوِیّاً، وَحَفِظْتَنِی فِی الْمَھْدِ طِفْلاً صَبِیّاً، 
نکالا کہ مجھے ہدایت دے کر دنیا میں درست و سالم جسم کے ساتھ بھیجا اور گہوارے میں میری نگہبانی کی جب میں چھوٹا بچہ تھا تو 
وَرَزَقْتَنِی مِنَ الْغِذائِ لَبَناً مَرِیّاً، وَعَطَفْتَ عَلَیَّ قُلُوبَ الْحَواضِنِ، وَکَفَّلْتَنِی الاْمَّہاتِ 
نے میرے لیے تازہ دودھ کی غذا بہم پہنچائی اور دودھ پلانے والیوں کے دل میرے لیے نرم کردیے تو نے مہربان ماؤں کو میری 
الرَّواحِمَ وَکَلاَتَنِی مِنْ طَوارِقِ الْجانِّ وَسَلَّمْتَنِی مِنَ الزِّیادَۃِ وَالنُّقْصانِ فَتَعالَیْتَ 
پرورش کا ذمہ دار بنایا جن و پری کے آسیب سے میری حفاظت فرمائی اور مجھے ہر قسم کی کمی بیشی سے بچائے رکھا پس تو برتر ہے 
یَا رَحِیمُ یَا رَحْمنُ حَتَّی إذَا اسْتَھْلَلْتُ ناطِقاً بِالْکَلامِ ٲَتْمَمْتَ عَلَیَّ سَوابِغَ الْاِنْعامِ
اے مہربان اے عطاؤں والے یہاں تک کہ میں باتیں کرنے لگا اور یوں تو نے مجھے اپنی بہترین نعمتیں پوری کردیں
وَرَبَّیتَنِی زائِداً فِی کُلِّ عامٍ، حَتَّی إذَا اکْتَمَلَتْ فِطْرَتِی وَاعْتَدَلَتْ مِرَّتِی ٲَوْجَبْتَ عَلَیَّ 
اور ہر سال میرے جسم کو بڑھایا حتی کہ میری جسمانی ترقی اپنے کمال تک پہنچ گئی اور میری شخصیت میں توازن پیدا ہوگیا تو مجھ پر تیری 
حُجَّتَکَ بِٲَنْ ٲَلْھَمْتَنِی مَعْرِفَتَکَ، وَرَوَّعْتَنِی بِعَجائِبِ حِکْمَتِکَ، وَٲَیْقَظْتَنِی لِما ذَرَٲْتَ 
حجت قائم ہوگئی اس لیے کہ تو نے مجھے اپنی معرفت کرائی اور اپنی عجیب عجیب حکمتوں کے ذریعے مجھے خائف کردیا اورمجھے بیدار کیا 
فِی سَمائِکَ وَٲَرْضِکَ مِنْ بَدائِعِ خَلْقِکَ، وَنَبَّھْتَنِی لِشُکْرِکَ وَذِکْرِکَ، وَٲَوْجَبْتَ 
ان چیزوں کے ذریعے جو تو نے آسمان و زمین میں عجیب طرح سے خلق کیں اسطرح مجھے اپنے شکر اور ذکر سے آگاہ کیا اور مجھ پر اپنی 
عَلَیَّ طاعَتَکَ وَعِبادَتَکَ وَفَھمْتَنِی مَا جائَتْ بِہِ رُسُلُکَ، وَیَسَّرْتَ لِی تَقَبُّلَ مَرْضاتِکَ
فرمانبرداری اور عبادت لازم فرمائی تو نے مجھے وہ چیز سمجھائی جو تیرے رسول لائے اور میرے لیے اپنی رضاؤں کی قبولیت آسان کی
وَمَنَنْتَ عَلَیَّ فِی جَمِیعِ ذلِکَ بِعَوْ نِکَ وَلُطْفِکَ، ثُمَّ إذْ خَلَقْتَنِی مِنْ خَیْرِ الثَّریٰ، لَمْ 
تو ان سب باتوں میں مجھ پر تیرا احسان ہے اس کے ساتھ تیری مدد اور مہربانی ہے پھر جب تو نے مجھے پیدا کیا بہترین خاک سے تو 
تَرْضَ لِی یَا إلھِی نِعْمَۃً دُونَ ٲُخْری، وَرَزَقْتَنِی مِنْ ٲَ نْواعِ الْمَعاشِ وَصُنُوفِ 
میرے لیے اے اللہ! تو نے ایک آدھ نعمت پر ہی بس نہیں کی بلکہ مجھے معاش کے کئی طریقے اور فائدے کے کئی راستے عطا کیے مجھ 
الرِّیاشِ بِمَنِّکَ الْعَظِیمِ الْاَعْظَمِ عَلَیَّ، وَ إحْسانِکَ الْقَدِیمِ إلَیَّ، حَتَّی إذا ٲَتْمَمْتَ 
پر اپنے بڑے بہت بڑے احسان و کرم سے اور مجھ پر اپنی سابقہ مہربانیوں سے یہاں تک کہ جب مجھے تو نے یہ 
عَلَیَّ جَمِیعَ النِّعَمِ وَصَرَفْتَ عَنِّی کُلَّ النِّقَمِ لَمْ یَمْنَعْکَ جَھْلِی وَجُرْٲَتِی عَلَیْکَ ٲَنْ 
تمام نعمتیں دے دیں اور تکلیفیں مجھ سے دور کردیں تیرے آگے میری جرات اور میری نادانی اس میں رکاوٹ 
دَلَلْتَنِی إلَی مَا یُقَرِّبُنِی إلَیْکَ، وَوَفَّقْتَنِی لِما یُزْ لِفُنِی لَدَیْکَ، فَ إنْ دَعَوْتُکَ 
نہیں بنی کہ تو نے مجھے وہ راستے بتائے جو مجھ کو تیرے قریب کرتے اور تو نے مجھے توفیق دی کہ تیرا پسندیدہ بنوں پس میں نے جو دعا 
ٲَجَبْتَنِی، وَ إنْ سَٲَلْتُکَ ٲَعْطَیْتَنِی، وَ إنْ ٲَطَعْتُکَ شَکَرْتَنِی، وَ إنْ شَکَرْتُکَ زِدْتَنِی، 
مانگی تو نے قبول کی اور جو سوال کیا وہ تو نے پورا فرمایا اگر میں نے تیری اطاعت کی تو نے قدر فرمائی اورمیں نے شکر کیا تو نے زیادہ 
کُلُّ ذلِکَ إکْمالاً لاِ نْعُمِکَ عَلَیَّ وَ إحْسانِکَ إلَیَّ فَسُبْحانَکَ سُبْحانَکَ مِنْ مُبْدِیًَ 
دیا یہ سب مجھ پر تیری نعمتوں کی کثرت اور مجھ پر تیرا احسان و کرم ہے پس تو پاک ہے تو پاک ہے کہ تو آغاز کرنے والا لوٹانے والا 
مُعِیدٍ حَمِیدٍ مَجِیدٍ وَتَقَدَّسَتْ ٲَسْماؤُکَ، وَعَظُمَتْ آلاؤُکَ، فَٲَیُّ نِعَمِکَ یَا إلھِی
تعریف والا بزرگی والا ہے اور پاک ہیں تیرے نام اور بہت بڑی ہیں تیری نعمتیں تو اے میرے خدا! تیری کس نعمت کی گنتی کروں 
ٲُحْصِی عَدَداً وَذِکْراً ٲَمْ ٲَیُّ عَطایاکَ ٲَقُومُ بِھا شُکْراً وَھِیَ یَا رَبِّ ٲَکْثَرُ مِنْ ٲَنْ
اور اسے یاد کروں یاتیری کون کونسی عطاؤں کا شکر بجا لاؤں اور اے میرے پروردگار یہ تو اتنی زیادہ ہیں کہ شمار
یُحْصِیھَا الْعادُّونَ، ٲَوْ یَبْلُغَ عِلْماً بِھَا الْحافِظُونَ ثُمَّ مَا صَرَفْتَ وَدَرَٲْتَ عَنِّی اَللّٰھُمَّ مِنَ 
کرنے والے انہیں شمار نہیں کرسکتے یا یاد کرنے والے ان کو یاد نہیں رکھ سکتے پھر اے اللہ! جو تکلیفیں 
الضُّرِّ وَالضَّرَّائِ ٲَکْثَرُ مِمَّا ظَھَرَ لِی مِنَ الْعافِیَۃِ وَالسَّرَّائِ، وَ ٲَنَا ٲَشْھَدُ 
اور سختیاں تو نے مجھ سے دور کیں اور ہٹائی ہیں ان میں اکثر ایسی ہیں جن سے میرے لیے آرام اور خوشی ظاہر ہوئی ہے اور میں گواہی 
یَا إلھِی بِحَقِیقَۃِ إیمانِی وَعَقْدِ عَزَماتِ یَقِینِی، وَخالِصِ صَرِیحِ تَوْحِیدِی
دیتا ہوں اے اللہ! اپنے ایمان کی حقیقت اپنے اٹل ارادوں کی مظبوطی اپنی واضح و آشکار توحید 
وَباطِنِ مَکْنُونِ ضَمِیرِی وَعَلائِقِ مَجارِی نُورِ بَصَرِی، وَٲَسارِیرِ صَفْحَۃِ جَبِینِی 
اپنے باطن میں پوشیدہ ضمیر اپنی آنکھوں کے نور سے پیوستہ راستوں اپنی پیشانی کے نقوش کے رازوں 
وَخُرْقِ مَسارِبِ نَفْسِی، وَخَذارِیفِ مارِنِ عِرْنِینِی، وَمَسارِبِ صِماخِ سَمْعِی، وَمَا 
اپنے سانس کی رگوں کے سوراخوںاپنی ناک کے نرم و ملائم پردوں اپنے کانوں کی سننے والی جھلیوں اور اپنے 
ضُمَّتْ وَٲَطْبَقَتْ عَلَیْہِ شَفَتایَ، وَحَرَکاتِ لَفْظِ لِسانِی، وَمَغْرَزِ حَنَکِ فَمِی وَفَکِّی، 
چپکنے اور ٹھیک بند ہونے والے ہونٹوں اپنی زبان کی حرکات سے نکلنے والے لفظوںاپنے منہ کے اوپر نیچے کے حصوںکے ہلنے اپنے 
وَمَنابِتِ ٲَضْراسِی، وَمَساغِ مَطْعَمِی وَمَشْرَبِی، وَحِمالَۃِ ٲُمِّ رَٲْسِی، وَبُلُوعِ فارِغِ 
دانتوں کے اگنے کی جگہوں اپنے کھانے پینے کے ذائقہ دار ہونے اپنے سر میں دماغ کی قرارگاہ اپنی گردن میں غذا کی 
حَبائِلِ عُنُقِی وَمَا اشْتَمَلَ عَلَیْہِ تامُورُ صَدْرِی وَحَمائِلِ حَبْلِ وَتِینِی وَ نِیاطِ حِجابِ 
نالیوں اور ان ہڈیوں، جن سے سینہ کا گھیرا بناہے اپنے گلے کے اندر لٹکی ہوئی شہ رگ اپنے دل میں آویزاں 
قَلْبِی وَٲَفْلاذِ حَواشِی کَبِدِی، وَمَا حَوَتْہُ شَراسِیفُ ٲَضْلاعِی، وَحِقاقُ مَفاصِلِی، 
پردے اپنے جگر کے بڑھے ہوئے کناروں اپنی ایک دوسری سے ملی اور جھکی ہوئی پسلیوں اپنے جوڑوں کے حلقوں اپنے
وَقَبْضُ عَوامِلِی، وَٲَطْرافُ ٲَنامِلِی، وَلَحْمِی وَدَمِی وَشَعْرِی وَبَشَرِی وَعَصَبِی 
اعضائ کے بندھنوں اپنی انگلیوں کے پوروں اور اپنے گوشت خون اپنے بالوں اپنی جلد اپنے پٹھوں 
وَقَصَبِی وَعِظامِی وَمُخِّی وَعُرُوقِی وَجَمِیعُ جَوارِحِی وَمَا انْتَسَجَ عَلَی ذلِکَ ٲَیَّامَ 
اور نلیوں اپنی ہڈیوں اپنے مغز اپنی رگوں اور اپنے ہاتھ پاؤں اور بدن کی جو میری شیرخوارگی 
رِضاعِی، وَمَا ٲَ قَلَّتِ الْاَرْضُ مِنِّی وَنَوْمِی وَیَقْظَتِی وَسُکُونِی، وَحَرَکاتِ رُکُوعِی 
میں پیدا ہوئیں اور زمین پر پڑنے والے اپنے بوجھ اپنی نینداپنی بیداری اپنے سکون اور اپنے رکوع 
وَسُجُودِی ٲَنْ لَوْ حاوَلْتُ وَاجْتَھَدْتُ مَدَی الْاَعْصارِ وَالْاَحْقابِ لَوْ عُمِّرْتُھا ٲَنْ
و سجدے کی حرکات ان سب چیزوں پر اگر تیرا شکر ادا کرناچاہوں اور تمام زمانوں اور صدیوں میں کوشاںرہوں اور عمر وفا کرے تو 
ٲُؤَدِّیَ شُکْرَ واحِدَۃٍ مِنْ ٲَ نْعُمِکَ مَا اسْتَطَعْتُ ذلِکَ إلاَّ بِمَنِّکَ الْمُوجَبِ عَلَیَّ بِہِ 
بھی میں تیری ان نعمتوں میں سے ایک نعمت کا شکر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگر تیرے احسان کے ذریعے جس سے مجھ پر تیرا 
شُکْرُکَ ٲَبَداً جَدِیداً، وَثَنائً طارِفاً عَتِیداً، ٲَجَلْ وَلَوْ حَرَصْتُ ٲَ نَا وَالْعادُّونَ مِنْ 
ایک اور شکر واجب ہو جاتا ہے اور تیری لگاتار ثنا واجب ہو جاتی ہے اور اگر میں ایسا کرنا چاہوں اور تیری مخلوق میں سے شمار کرنے 
التماس دعا
.......
/169