ابنا: رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنے اس پیغام میں تاکید کے ساتھ فرمایا ہے کہ حج کا اہم ترین درس اور عالم اسلام کو سخت حالات سے باہر نکالنے کا بنیادی علاج، مسلمانوں میں اتحاد اور برادری کا قیام نیز دشمنوں کی شناخت اور ان کے منصوبوں اور ان منصوبوں پر عمل کے طریقوں کا مقابلہ کرنا ہے۔آپ نے اسلامی بیداری کو سرکوب اور فلسطین و مسلمان قوموں کی نجات جیسے بنیادی مسائل، درکنار کرنے کیلئے عالمی استکبار و بین الاقوامی صیہونیزم کی تمام مّکارانہ چالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایام حج، دنیائے اسلام کو پہنچنے والے نقصانات کے سّد باب کیلئے معجزاتی موقع ہیں اور اگر اس عظیم موقع کی اہمیت کی صحیح شناخت اور اس سے شائستہ طور پر فائدہ اٹھالیا جائے تو عالم اسلام کے بہت سے مسائل کا حل نکل آئیگا۔حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ موجودہ دور، اسلامی بیداری و تشّخص پیدا کرنے کا دور ہے اور مغربی ایشیاء، مشرق وسطی، خلیج فارس اور شمالی افریقہ سمیت مختلف علاقوں کے ملکوں کی صورت حال پر نظر ڈالنے سے بہت سے حقائق واضح ہوجارہے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ بہت سے ایسے وحشیانہ اقدامات و جرائم، کہ جنکا ارتکاب دین کے نام اور اس کے پرچم تلے، کیا جارہا ہے یہ سب، علاقے میں استکبار و شیطان کے منصوبوں اور ان کے آلۂکاروں کے کرتوتوں کا نتیجہ ہے کہ جس کے ذریعے مختلف ملکوں کے اندرونی مسائل میں مداخلت کی راہ ہموار اور ان ملکوں کی قوموں کا مستقبل تاریک بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کے ساتھ فرمایا کہ امریکہ کی سرکردگی میں استکباری حکومتیں ایسی حالت میں قوموں کے حقوق کا دم بھر رہی ہیں کہ یہ مسلمان قومیں، ان کے فتنوں کی آگ میں ماضی سے کہیں زیادہ اپنے جسم و جان کے جلنے کا احساس کررہی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ فلسطین کی مظلوم قوم، جو کئی عشروں سے روزانہ صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کے جرائم کے زخم سہ رہی ہے، یا افغانستان و پاکستان و عراق، کہ جہاں کی قومیں استکبار اور اس کے علاقائی آلۂ کاروں کی پالیسیوں سے پیدا شدہ دہشتگردی کی بھینٹ چڑھی ہوئی ہیں، یا شام ، جو صیہونی مخالف تحریک کی حمایت کرنے کے جرم میں بین الاقوامی تسلط پسندوں اور ان کے علاقائی پّٹھوؤں کے بغض و کینے کا نشانہ اور خونریز خانہ جنگی سے دوچار ہے، یا بحرین اور میانمار ، کہ جہاں ستم رسیدہ مسلمانوں کی موجودہ صورت حال پیدا کرنے والوں کو مسلمانوں کے دشمنوں کی بھرپور حمایت حاصل ہے، اور یا دیگر ان اقوام پر نظر، کہ جنھیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے فوجی حملوں، ظلم و بربریت یا اقتصادی بائیکاٹ اور یا سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں، پوری دنیا کو تسلط پسندانہ نظام کے ان حکام کے حقیقی چہرے کو پہچنواسکتی ہے۔
.......
/169