ابنا: ملالہ یوسف زئی نے امریکی صدربارک اوباما سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی، مشیل اوباما اور ان کی بیٹی نے بھی شرکت کی۔ ملالہ نے پاکستان میں ڈرون حملوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں میں معصوم جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ ملالہ نے کہا کہ ڈرون حملوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں اور پاکستان میں امریکا کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔ملالہ نے خیبرپختونخوا، فاٹا اور سوات میں یو ایس ایڈکی تعلیمی اورترقیاتی منصوبوں کو سراہا۔اور اوباما نے بھی فرمایا کہ پاکستان میں تعلیم کے فروغ میں ان کا کردار حوصلہ افزا ہے! البتہ یہ 16 سال کی بچی پاکستان کے عجیب اور پیچیدہ نظام میں تعلیم کے لئے کیا کردار ادا کررہی ہے! اس کا جواب وہی لوگ دے سکتے ہیں جو ملالہ کے آگے بڑھا کر موٹی موٹی باتیں کروا رہے ہیں اور جن کو خود بھی نہيں معلوم کہ یہ سب کیا ہے یا پھر ان کے اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ ہورہا ہے!!عمران خان کا رد عمل!ملالہ کونوبل امن انعام نہ ملنے پر عمران خان کا اظہار مایوسی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ملالہ یوسف زئی کو نوبل امن انعام نہ ملنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے نوبل انعام کیلئے ملالہ کی نامزدگی پوری پاکستانی قوم کیلئے باعث فخرہے۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ملالہ پاکستان کی بیٹی ہے، ملالہ نے کم عمری میں بچوں کی تعلیم کیلئے آواز اٹھائی جس کے دوران اسے نے مشکلات بھی برداشت کیں۔وہ مغرب سے واپسی پر سیاست میں حصہ لینا چاہتی ہے!!!!
وطن واپس آکر سیاست کے میدان میں قدم رکھنا چاہتی ہوں، ملالہ امن کے نوبل انعام کا اعلان جمعے کو کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور تبصرہ نگاروں کو توقع ہے کہ اس بار یہ انعام پاکستان کی دلیر بیٹی ملالہ یوسف زئی کو دیا جائے گا۔
اس دوران ملالہ یوسف زئی نے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ پاکستان واپس آ کر سیاست کے میدان میں قدم رکھنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاست دان بن کر تعلیم مفت اور لازمی کرنا چاہتی ہیں۔
یہ لڑکی وزیر اعظم بننا چاہتی ہے!!! وزیر اعظم بن کر ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہوں، ملالہ یوسف زئی ملالہ یوسف زئی نے کہا کہ تعلیم کیلئے جان دینے سے بھی نہیں ڈرتی، پہلے ڈاکٹر بنناچاہتی تھی مگراب وزیراعظم بنناچاہتی ہوں، وزیراعظم بن کرزیادہ سیزیادہ عوام کی خدمت کرسکتی ہوں۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ملالہ نے کہا کہ نوبل انعام جیتنابڑااعزازہوگا، جس تبدیلی کی امیدکرتی ہوں وہ ابھی دورہے۔ 
ملالہ نے کہا کہ امیدہے ایک دن پاکستان کی وزیراعظم بنوں گی۔ طالبان کی جانب سے دوبارہ حملے کی دھمکی پر ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ طالبان مجھے مارسکتے ہیں، میرے خوابوں کونہیں، تعلیم عام کرنے کی جدوجہدکبھی نہیں چھوڑوں گی۔
طالبان کی عقلمندی کا اندازہ کیجئے:ملالہ کو نوبل امن انعام نہ ملنے کی خوشی ہوئی،طالبان کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کو نوبل امن انعام نہ ملنے کی خوشی ہوئی،گزشتہ روز بھی طالبان نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملالہ نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس پر سخاروف ایوارڈ دیا جائے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے غیرملکی خبرایجنسی سے ٹیلی فون پربات کرتے ہوئے کہاکہ ملالہ کو نوبل انعام نہ ملنے کی خوشی ہوئی ،گزشتہ روز بھی طالبان ترجمان نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملالہ یوسف زئی نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا،جس پر اسے یورپی یونین کا انسانی حقوق کا سخاروف ایوارڈ ملتا، ملالہ کو اس لیے انعامات سے نوازا جارہا ہے کیونکہ سیکولر ہوچکی ہے۔ شاہد اللہ شاہد نے یہ بھی کہا کہ موقع ملا تو ملالہ پر امریکا یا برطانیہ میں بھی حملہ کریں گے۔ جبکہ ملالہ کی کتاب ”آئی ایم ملالہ“ کو پاکستان میں جو بھی دکاندار فروخت کرے گا اس کو نشانہ بنایا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭