اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک سعودی مبلغ "شیخ فیحان الغامدی" پر اپنی کم سن بچی "لمی" پر تشدد کرنے، اس کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور ریاض کی ایک عدالت میں شواہد اور ثبوتوں سے اس کا جرم ثابت بھی ہوا لیکن وہابی عدالت نے اس شخص کو آٹھ سال قید، 270 ہزار ریال جرمانہ اور 800 کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔
الغامدی قبل ازیں وہابی دین کی تبلیغ کرنے والے ٹی وی چینلوں پر "دینی ماہر" کی حیثیت سے مختلف پروگراموں میں شرکت کرتا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وہابی مولوی و مبلغ کی دوسری بیوی کو بھی جرم میں معاونت کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے 10 مہینے جیل اور 150 کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔ اتنے عظیم اور غیرانسانی جرم کے لئے سزا میں اتنی تخفیف کے باوجود مجرم کے وکیل نے کہا ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ ناقابل قبول ہے اور وہ عنقریب اس فیصلے کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل دائر کرے گا۔

پانچ سالہ بچی "لمی الغامدی" 25 دسمبر 2011 کو ایسے حال میں اسپتال پہنچایا گیا کہ اس کی کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور ہاتھوں سمیت بدن کی دوسری کئی ہڈیوں کو توڑ دیا گیا تھا۔ اس مسئلے کو کچھ عرصہ صیغہ راز میں رکھنے کے بعد فروری 2013 میں قانونی ذرائع نے اعلان کیا کہ اس بچی کے بدن کے کچھ حصے جلا دیئے گئے تھے اور اس کا ایک ناخن بھی کھینچ لیا گیا تھا۔
اسپتال کے سماجی شعبے کی رکن "رندا الکلیب" نے کہا ہے کہ اس بچی کو جنسی آزار و اذیت کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
لمی الغامدی 22 اکتوبر 2012 تک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد چل بسی۔
بعض سوشل نیٹ ورکس پر سعودی صارفین نے سعودی عدالت کے اس فیصلے کو مذاق کا نشانہ بنایا ہے اور اور کا موازنہ "علی رائف" کے خلاف سعودی عدالتی فیصلے سے کیا ہے جس پر سائبر قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا اور اس کو سات سال قید اور 600 کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ محارم یا محرم عورتوں ـ جیسے ماں، بہن، خالہ، پھوپھی، دادی، نانی، بیٹی، نواسی، پوتی، بھتیجی، بھانجی، جن سے نکاح کرنا حرام ہے ـ اگر زنا کیا جائے تو اس کی سزا بعض فقہاء کی رائے میں "پھانسی' ہے لیکن بعض فقہاء احادیث کے متن کے مطابق، اس کی سزا یہ ہے کہ اس کا سر تلوار کے ایک وار سے قلم کیا جائے اور اگر تلوار کا وار سہہ لے اور زندہ رہے تو اس کو جیل میں بند رکھا جائے حتی کہ وہ مرجائے۔ اور احتیاط یہ ہے کہ اس مؤخرالذکر حکم کی پابندی کی جائے۔ زنای بالجبر کی سزا بھی ایسی ہی ہے۔
تاہم وہابی دین ميں نئے فتاوی کا ظہور پذیر ہونا آج کے زمانے میں معمول بن چکا ہے جن میں محمد العریفی کی طرف سے جہاد النکاح نامی فحاشی کا جواز، جو سینکڑوں افراد کو یکے بعد از دیگرے ایک خاتون کے ساتھ جسمانی تعلق کا جواز دیتا ہے اور اللہ اکبر کہہ کر کسی کو بھی کسی سے تعلق بنانے کی اجازت ملتی ہے جس میں شادی شدہ یا غیر شادی شدہ عورت کی شرط بھی نہیں ہے اور عدت بھی واجب نہیں ہے اور دلچسپ امر یہ ہے کہ اس میں نکاح کا صیغہ جاری کرنے کے بجائے مرد اللہ اکبر کہتا ہے اور ۔۔۔ اور پھر اس سے بڑھ کر دوسرا فتوی شیخ ناصر العمر نے فتوی دیا اور کہا کہ اگر نامحرم عورتیں دستیاب نہ ہوں تو حکومت شام کے خلاف لڑنے والے دہشت گرد اپنی محارم کے ساتھ بھی نکاح کرسکتے ہیں اور باقی تمام بڑے اور چھوٹے وہابی مفتیوں نے خاموشی اختیار کرکے ان دو فتووں کی تائید کی ہے چنانچہ یہاں بھی عدالت کے جج عام طور پر وہابی مولوی ہی ہوتے جن کے ہاں محرم خواتین کی حرمت واضح و آشکار ہے اور وہ محارم کے ساتھ زنا کرنے اور پھر انہیں قتل کرنے کی سزا کی اسلامی حد تک کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ ہے دین سے انحراف اور اپنی رائے کو اسلام قرار دینے اور نفس پرستی و صاحبان اقتدار کی حاشیہ نشینی کا نتیجہ۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں سعودی عرب ہی کے ایک شیخ سلیمان ناصر العلوان کو 15 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جس نے ایسا کوئی عمل انجام نہیں دیا تھا اور اس نے الغامدی جیسوں کی طرح اسلام کی مسلمہ حدود کو پامال نہیں کیا تھا بلکہ آل سعود اور آل عبدالوہاب (آل الشیخ) کی عدالت نے ان پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے قیدیوں کے گھرانوں سے رابطے کئے اور ملاقاتیں کی ہیں اور موقف اپنایا ہے کہ سعودی قاضی (جج) حکمرانوں کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت پر ترجیح دیتے ہیں۔
سعودی عرب میں عوام کو کچھ سوچنے اور بولنے کی اجازت نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود سعودی عوام جس قدر الغامدی کو سنائی جانے والی سزا پر متاسف ہیں اتنے ہی العلوان کو سنائی دینے والی سزا پر معترض ہیں۔
شیخ العلوان نے بھی عدالتی کاروائی کے وقت کہا ہے کہ جو عدالت ان پر مقدمہ چلانے کے لئے قائم کی گئی ہے وہ شرعی اور قانونی حیثیت نہيں رکھتی؛ اور یوں انھوں نے اپ اپنے کو سنائی جانے والی سزا کی شرعی اور قانونی حیثیت کو چیلنج کیا اور کہا کہ ان کا مقدمہ اور عدالتی کاروائی ایک کھیل سے زيادہ کجھ نہ تھی جس کے کھلاڑی قاضی تھے اور انھوں نے یہاں ایک میلہ جمایا اور نمائش لگائی۔

اخبار عکاظ: وہابی مبلغ نے "صرف تشدد کیا ہے اور قتل کا ارتکاب کیا ہے!"
عکاظ اخبار نے اپنی بیٹی کو تشدد اور زيادتی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے وہابی مبلغ کا عجیب انداز میں دفاع کیا ہے اور لکھا ہے: وہ صرف اپنی بیٹی پر تشدد اور اس کے قتل کا ارتکاب کرچکا ہے جبکہ اس نے بیٹی پر جنسی زیادتی نہیں کی ہے!
اطلاعات کے مطابق ریاض کے جنوبی صوبے کے ایک اعیل سرکاری اہلکار نے کہا ہے کہ فیحان الغامدی کے خلاف تحقیقات ابھی تک جاری ہیں؛ کیونکہ اس شخص کو عدالت نے "تشدد، جنسی زیادتی اور قتل" کا الزام ثابت ہونے پر جو سزا سنائی ہے اس پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔
سعودی اخبار عکاظ نے اس وہابی مبلغ کو ایک الزام سے بری الذمہ قرار دلوانے کی کوشش کرتے ہوئے مذکورہ بےنام و نشان اہلکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جس سے ثابت ہوسکے کہ اس نے اپنی بچی کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا ہے چنانچہ اس پر صرف قتل اور تشدد کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے!
اس اہلکار نے کہا ہے کہ الغامدی نے جنسی زیادتی کا ارتکاب نہيں کیا ہے تاہم ممکن ہے کہ اپنی دوسری بیوی کے دباؤ کے تحت اس اقدام پر مجبور ہوگیا ہو جس کے نتیجے میں پڑوسیوں نے بچی کے چیخنے چلانے کی آوازیں سنی تھیں۔
ادھر پانچ سالہ مقتولہ بچی کی والدہ کے وکیل "ترکی الرشید" نے کہا ہے کہ عدالت نے اس عظیم جرم میں شریک الغامدی کی دوسری بیوی کو بھی 10 ماہ قید اور 150 کوڑوں کی سزا سنائی ہے تاہم الغامدی اور اس کی بیوی کے سنائی گئی سزا پر سماجی اور قانونی حلقوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور ان حلقوں نے عدالت کے اس فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ اور ادھر دو مجرموں کے وکیل نے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے؛ گویا اس کے خیال میں ان انسانیت سوز جرائم کے باوجود اس کو موکلین بے گناہ ہیں!
جیسا کہ بیان ہوا ہے سپتال کے سماجی شعبے کے کارکنان نے زور دے کر کہا ہے کہ یہ بچی اسپتال منتقل ہونے سے قبل جنسی تشدد کا نشانہ بنی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/٭۔٭