8 اکتوبر 2013 - 20:30
رہبر انقلاب اسلامی کا فتوی اقوام متحدہ میں بنیادی قانون کے طور پر منظور کیا جائے

سیکریٹری جنرل عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی، حجت الاسلام والمسلمین محمد حسن اختری نے مطالبہ کیا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی کا فتوی ـ وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری، ذخیرہ، اور استعمال کی حرمت پر مبنی ہے ـ اقوام متحدہ میں بنیادی قانون کے طور پر منظور کیا جائےتا کہ کوئی بھی ملک اس کے بعد جوہری ہتھیار نہ بنائے اور انہیں اپنے پاس نہ رکھے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمين "محمدحسن اختري" نے منگل (8 اکتوبر 2013) کو اسلامی جمہوری نیوز ایجنسی ـ ارنا ـ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: چونکہ تمام الہی ادیان اپنے اصولوں میں مشترک ہیں لہذا رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای کا فتوی ادیان کے درمیانہ تفاہم اور گفتگو کی مشترکہ بنیاد قرار دیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا: ادیان ادلہی کو انقلاب کے رہبر معظم کے فتوے کو وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری اور استعمال کی شرعی حرمت کے لئے بنیادی محور و مدار قرار دینا چاہئے۔ انھوں نے کہا: بہت سے ممالک کے پاس مہلک ہتھیاروں کے ذخیرے موجود ہیں اور یہ ممالک عام طور پر اسلام اور اس کے احکام اور اصولوں سے واقف نہیں ہیں اور یہ ممالک رہبر انقلاب اسلامی کے اس فتوی کی وسعت اور گہرائی کا ادراک نہيں کرسکے ہیں۔ انھوں نےکہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کو بعض ہم فکر ممالک اور غیروابستہ تحریک کے رکن ممالک کے تعاون سے اس فتوی کو قانونی اور بین الاقوامی بنیاد و اساس کے طور پر زیر بحث لائے تاکہ اس فتوی کی قوت سے استفادہ کرکے دنیا بھر میں جوہری اسلحے کی پیداوار اور اس کو ذخیرہ کرنے کا سلسلے پر پابندی لگ جائے۔ انھوں نے کہا: امریکی صدر کہتے ہیں چونکہ رہبر انقلاب اسلامی نے جوہری ہتھیاروں کی پیداوار اور استعمال کو ممنوع قرار دیا ہے، ہم اسی فتوی کو ایران کے ساتھ تعامل اور گفتگو کی بنیادی قرار دیتے ہیں اور اس کو بنیادی محور کے طور پر تسلیم کرتے ہیں لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ جن ممالک کے پاس مہلک ہتھیار موجود ہیں ان کا کیا ہوگا؟ جناب اختری نے کہا: اس فتوی کی قابلیتوں سے جوہری ہتھیاروں سے خالی دنیا کے قیام کے لئے استفادہ کرنا چاہئے اور امریکہ اور اسرائیل کو بھی یہ اصول تسلیم کرنا پڑے گا۔ اہل بیت(ع) اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے مزید کہا: اسلامی اصولوں کے مطابق ہر وہ اقدام جو بنی نوع انسان کے قتل عام اور تخریب اور ماحولیات کی تباہی پر منتج ہوتا ہو، شرع مبین سے ابتدائی تاثر و تصور میں، مذموم اور ممنوع ہے اور کوئی بھی حکومت اپنے دشمن کو ختم کرنے کے لئے اس ہتھیاروں کو استعمال نہیں کرسکتی۔ جناب آختری نے آخر میں کہا: دین اسلام میں وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو تیار، ذخیرہ اور استعمال کرنا ممنوع ہے اور رہبر انقلاب اسلامی کا فتوی بھی ان ہی محکم دینی اصولوں سے ماخوذ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭