اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ دو ہمسایہ ممالک کی حیثیت سے اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے صلاح و مشورے کا عمل، تعاون کو فروغ دینے اور علاقائی مسائل کو حل کرنے کے راستے پر جاری ہے۔ اسی تناظر میں عراق کی سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ عمار حکیم نے تہران کا دورہ کیا ہے۔عمار حکیم نے ایران کی مجلس شورای اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور اہم علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں تبادلہ خيال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں ایران اور عراق کے تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔عراق کی سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ عمار حکیم نے تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیۃ اللہ ہاشمی رفسنجانی سے بھی ملاقات کی۔ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اس ملاقات میں اس بات پر زور دیا کہ دشمن دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے عراق میں مذہبی اور نسلی گروہوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس طرح وہ عراقی عوام کے اتحاد اور پیشرفت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر سکیں۔عمار حکیم نے بھی تہران اور بغداد کے تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عراقی حکام اور عوام ایران کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ایران اور عراق کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ ایران اور عراق دو ہمسایہ ملک ہونے کی حیثیت سے طویل مشترکہ سرحد اور ثقافتی سماجی اور سیاسی مشترکات کے حامل ہیں۔ عراق میں اسلامی مقدسات اور روضہ ہائے مبارک کی موجودگی نے بھی ایران اور عراق کے تعلقات اور تعاون کو ایک منفرد خصوصیت بخشی ہے۔ ہر سال ہزاروں ایرانی زیارات کے لیے عراق کا سفر کرتے ہیں اور یہ امر ایران اور عراق کی قوموں کی ثقافتوں کی پہچان میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دونوں قوموں کا تعاون دونوں ملکوں کی حکومتوں کے تعاون کا پیش خیمہ ہے اور ایران اور عراق کی قوموں کے درمیان تعاون جتنا بڑھے گا مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے صلاح و مشورے اتنی ہی آسانی سے انجام پائیں گے۔ان ہی باتوں کے پیش نظر دونوں ملکوں کے دارالحکومتوں میں صلاح و مشورے کا نیا دور بخوبی انجام پا رہا ہے۔ صلاح و مشورے کے اس نئے دور کا آغاز ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے حالیہ دورۂ عراق سے ہوا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد عراق کی پارلیمنٹ کے اسپیکر تہران کے دورے پر آئے۔ اسامہ النجیفی نے جو عراق کی ایک بااثر سیاسی شخصیت سمجھے جاتے ہیں، تہران میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے شام کے خلاف ہر قسم کی فوجی کارروائی کی مخالفت کی۔ ان کے اس بیان کو علاقے کے میڈیا نے بھرپور کوریج دی۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شام کے بحران کے پھیلنے کے منفی اثرات سے بخوبی واقف ہیں۔ ایران اور عراق علاقے کے دو اہم ملک ہونے کی حیثیت سے علاقائی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی اور عراقی حکام نے حالیہ مہینوں کے دوران وسیع پیمانے پر صلاح و مشورے انجام دیے ہیں۔ شام کے ساتھ جنگ کے نعرے کے خاموش ہونے کا تعمیری علاقائی تعاون کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔اسی طرح ایران اور عراق کے تعاون میں فروغ دو طرفہ پہلو کے لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ جمہوریت کے راستے پر گامزن عراق کو بدامنی اور دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ سکیورٹی کے میدان میں ایران کے کامیاب تجربات سے فائدہ اٹھانے سے عراق کو اپنے مسائل کو حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ عمار حکیم کا حالیہ دورۂ ایران بھی دو طرفہ اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے تناظر میں انجام پا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
5 اکتوبر 2013 - 20:30
News ID: 470117
دو ہمسایہ ممالک کی حیثیت سے اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے صلاح و مشورے کا عمل، تعاون کو فروغ دینے اور علاقائی مسائل کو حل کرنے کے راستے پر جاری ہے۔