3 اکتوبر 2013 - 20:30
داعش کے کئی سرغنے مختلف علاقوں ميں ہلاک / دہشت گردوں کی مایوسی/ حلب شاہراہ کھل گئی

شام سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شام کو سرکاری افواج کی زبردست کامیابیاں ملی ہیں، القاعدہ سے وابستہ کئی گروہوں کو ہلاک کردیا ہے اور جن میں داعش دہشت گردوں کے کئی سرغنے بھی نظر آرہے ہیں/ شام: مسلح دہشت گرد شدید مایوسی کا شکار/ شام: حلب شاہراہ کھول دی گئی ایک سوق الجیشی دیہی علاقے پر افواج کا کنٹرول۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ ک رپورٹ کے مطابق شامی افواج نے کئی علاقوں میں القاعدہ سے وابستہ ٹولے "دولۃالاسلامیۃ في العراق والشام" (داعش) کے کئی گروپوں پر حملے کرکے زبردست کامیاں حاصل کی ہیں اور ادلب اور لاذقیہ کے نواح میں انہیں ہلاک کر ڈالا ہے جن میں داعش کے دو سرکردہ دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ العالم ٹی وی کے مطابق جمعرات (3 اکتوبر 2013) کو شام کی سرکاری افواج نے ادلب کے نواحی شہر "بنش" میں داعش کے ایک اعلی کمانڈر "عبدالرزاق جمعہ سمیسم" سمیت داعش کے متعدد اراکین کو ہلاک کردیا ہے۔ لاذقیہ کے کوہستانی علاقے میں داعش کے کمانڈر "ابو ایمن العراقی" اور اس کے نائب "ابوحمزہ السعودی"  سمیت متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے جن میں "حسام الدین الحاج"، "محمد نور الدین صالح"، "علاء الدین الہاشم" اور کئی دیگر اہم دہشت گرد شامل ہیں۔ فری سیرین آرمی نامی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ٹولے "الیرموک" کے میدانی کمانڈر "محمد الزعبی"  درعا صوبے کے شہر "الطیبہ" میں شامی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوگیا۔ سرکاری افواج نے درعا کے نواح میں طفس نامی علاقے میں ترکی کے حمایت یافتہ دہشت گرد ٹولے جبہۃالنصرہ کے ایک سینئر کمانڈر "مالک یونس الزعبی" کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ سرکاری افواج نے درعا کے نواحی گاؤں "الروضہ" میں 32 دہشت گردوں کو ہلاک اور 14 کو زخمی کیا۔ ہلاک شدگان میں اردن کے تین باشندے "عثمان الدہمان، عارف المعائطہ" اور اسعد الدہیمہ" شامل ہیں۔ دہشت گردوں کے ایک ٹولے نے جمعرات کو حلب کے بعض علاقے میں گھسنے کی کوشش کی جنہیں سرکاری افواج کے رد عملا کا سامنا کرنا پڑا اور جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دوسری طرف سے شامی افواج نے بدھ کی رات کو لبنان سے شام میں دراندازی کی کوشش کرنے والے افراد کو روک لیا اور جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہوئے اور باقیماندہ لبنان کی طرف فرار ہوئے۔  شام: مسلح دہشت گرد شدید مایوسی کا شکار فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق دہشت گرد ٹولے شامی افواج کے خلاف لڑتے ہوئے شدید مایوسی اور ناامیدی کا شکار ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق شام کے شمال میں سرکاری افواج اور مسلح دہشت گردوں کے درمیان لڑائی جاری ہے اور سرکاری افواج نے متعدد علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور فوج کوشش کررہی ہے کہ ان علاقوں میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرکے ان میں معمول کی زندگی بحال کرے اور شام کے معاشی دارالحکومت کی اصل حیثیت بحال کریں۔ حلب کے علاقوں صلاح الدین اور سیف الدولہ میں سرگرم عمل ایک مسلح تنظیم کے رکن "ابو احمد" نے فرانس پریس سے کہا: ہم ای عمارت پر قبضہ کرتے ہیں جو دو یا تین دن ہمارے ہمارے قبضے میں ہوتا ہے اور اس کے بعد وہاں سے ہمیں مار بھگایا جاتا ہے اور ایک ہفتہ بعد بھی اسی عمارت پر قبضہ کرتے ہیں۔ ہم کوئی پیشرفت نہیں کرتے اور جنگ میں ہم کامیاب نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ایک سال سے اسی سڑک پر تعینات ہیں جس پر ہم نے ایک گھنٹے کی جھڑپوں کے بعد قبضہ کیا تھا لیکن اس وقت سے اب تک ہم ایک میٹر پیش قدمی نہیں کرسکے ہیں۔ ابو احمد نے مزید کہا: حکومت شام کے خلاف برسرپیکار تنظیموں کو آسائش کے لوازمات فراہم نہیں ہیں اور اس سے بڑھ کر ہمارے پس کافی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی نہیں ہے۔ اس مسلح ایک اور رکن ـ جس کے بدن پر گہرے زخموں کے نشان ہیں ـ نے کہا: ہمارے حوصلے پست ہیں، اس جنگ نے ہماری قوت کو چھین لیا ہے؛ ہمیں کافی کھانا نہیں ملتا اور اگر پانی ملے تو ہفتے میں صرف دو بار نہاتے ہیں۔ گروہ ایک اور رکن نے کہا: ہم پانچ یا 10 سال تک ان متروکہ عمارتوں میں رہ کر شامی افواج کے خلاف نہيں لڑ سکیں گے۔ شام: حلب شاہراہ کھول دی گئی ایک سوق الجیشی دیہی علاقے پر افواج کا کنٹرول سرکاری افواج نے کئی ہفتوں سے جاری گھمسان کی لڑائی کے بعد جمعرات کو، حماہ ـ حلب شاہراہ پر واقع علاقے "الخناصر" پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔اطلاعات کے مطابق شام کی ہیومین رائٹس واچ نے اعلان کیا کہ شام کی سرکاری افواج نے حلب کے علاقے میں کئی ہفتوں سے جاری شدید جھڑپوں کے بعد مسلح دہشت گرد ٹولوں کو پیچھے دھکیلا ہے اور حماہ ـ حلب کی شاہراہ پر واقع علاقے الخناصر پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں نے اس سال اگست کے مہینے میں الخناصر پر قبضہ کرکے حماہ ـ حلب شاہراہ کو بند کردیا تھا جس پر اب شامی افواج کا مکمل کنٹرول ہے جبکہ بدھ کے روز اس علاقے میں دہشت گرد تنظیموں کے 25 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ شامی ہیومین رائٹس واچ  کے مرکز نے کہا ہے کہ الخناصر کے گردو نواح میں کئی دیہاتوں میں سرکاری افواج اور دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں جمعرات کے دن بھی جاری رہیں۔ ادھر شام کے سرکاری اخبار "الوطن" نے بھی الخناصر پر شامی افواج کے کنٹرول کی خبر کی تصدیق کی ہے اور لکھا ہے: اب جو الخناصر کو افواج نے دہشت گردوں سے واپس لیا ہے تو حکومت حلب کے عوام کے لئے ضروریات کی اشیاء پہنچا سکتی ہے اور اس شہر کا طویل محاصرے اور اس شہر میں قحط اور بھوک کا خاتمہ کرسکتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭