ابنا: صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے آج کابینہ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری مذاکرات میں صرف ضمنی موضوعات پر بات چیت کرے گا، تاکید کی کہ ملت ایران کو مطمئن رہنا چاہیے کہ ایران کے اندر یورینیئم کی افزودگي اور جوہری ٹیکنالوجی جیسے موضوعات پر لین دین ممکن نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ تھران مدمقابل فریقین کی تجاویز پر توجہ دیتا ہے اور اپنی تجاویز بھی پیش کرے گا وضاحت کی کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک اصول اپنی تنصیبات کو جوہری توانائي کی عالمی ایجنسی کے اختیار میں قرار دینا ہے تاکہ آئی اے ای اے اس کی نگرانی کرے۔ ڈاکٹر روحانی اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ جوہری شعبے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے وضاحت کی کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں پر امن و شفاف اور بین الاقوامی قوانین منجملہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے این ، پی ، ٹی کے دائرے میں کام کررہی ہیں۔ صدر مملکت روحانی نے کہا کہ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے نہ صرف ایک مرجع تقلید بلکہ رہبر انقلاب اسلامی کے عنوان سے فرمایا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے درپے نہیں ہے اور رہبر انقلاب اسلامی کے بیانات نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کی عزت و سربلندی کے عنوان سے دنیا کے لئے اعتماد کی بہترین فضا پیدا کردی ہے.
.......
/169