ابنا: آج علاقائی اور عالمی سطج کی سیاسی صورتحال کیسی رہی یہ جاننے کیلئےپہلے خاص خاص خبروں پر ایک نظرڈالتے ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکی صدر اوباما نے اپنی ٹیلیفونی گفتگو میں ایران کے ایٹمی حقوق کو تسلیم کرلیا ہے۔ ہندوستانی وزیراعظم کی امریکی صدر اوباما سے ملاقات کے بعد پاکستان کے خلاف بیانات پرپاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔امریکہ نے ایک بار پھر افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار پرڈرون حملہ کیا جس میں نو افغاں فوجی اور دوشہری مارے گئے ہیں۔بلوچستان کے علاقے پنجگور میں فرنٹیئر کور کے قافلے پر حملے میں تین سیکورٹی اہلکار اور چھ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ لیکن سیاسی حلقوں میں جو موضوع خاص اہمیت کا حامل رہا وہ ہےپاکستان ميں دھشتگردی اور حکومت کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات۔امریکہ میں نائن الیون کا توایک واقعہ ہوا لیکن اس واقعے کے بعدگزشتہ بارہ برس کے دوران پاکستان میں ہر روز صف ماتم بپا ہونا معمول بن گیاہے۔ پرتشدد واقعات نے پاکستان کو جہاں جانی و مالی نقصان دیا وہیں نئی نسل پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ۔ پاکستان ایک سیکورٹی اسٹیٹ بن گیا،ہرجگہ اسلحہ بردار کھڑے کسی انہونے واقعے کا پیش خیمہ بتاتے ہیں،کچھ لوگ دہشت گرد کارروائیوں کے خوف سے حفاظتی اقدامات کے لئے اسلحہ رکھتے ہیں تو کچھ دوسروں پر اپنی دھاک بٹھانے کا ایک کھوکھلا انداز۔ پاکستانی معاشرے میں اسلحہ اس حد تک رچ بس گیا ہے کہ ایک طرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتے یہ جدید تر ہتھیار ، تو دوسری طرف تشدد کی موجودہ لہراور اگردھشتگردی کو ختم نہیں کرسکتےتو کم از کم ایسے اقدامات اٹھا سکتے ہیں کہ آئندہ نسلوں کو اس لعنت سےبچا سکیں۔اےپی سی میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے دہشت گردوں سے مذاکرات کے لئے حکومت کو فری ہینڈ دیا اور حکومت نے بھی مذاکرات کا ماحول بنانےکیلئے کچھ ایسے اقدامات کئے جو بظاہر تو اچھے نہیں لگے لیکن ان دہشت گردوں کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لئے شاید ضروری تھے لیکن دہشت گردوں نے حسب عادت ان اقدامات کو حکومت کی کمزوری خیال کیا اور اپنی دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھا۔ اعلیٰ فوجی حکام سے لے کر پولیس اور پھر گرجا گھر پربزدلانہ حملہ کر کے معصوم شہریوں کا خون بہا کر حکومت بلکہ ریاست کو پیغام دیا کہ وہ بندوق کے زور پر پورے معاشرے کو غلام اور ریاست پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس درمیان پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نےنیویارک میں کہا کہ اگر حکومت اورتحریک طالبان کے درمیان کسی معاہدے کیلئے پیشرفت ہوتی ہے تو طالبان کو ہتھیار پھینکنے ہوں گے اور پاکستانی آئین کو قبول کرنا ہوگا۔ نواز شریف نے کہا کہ طالبان کی جانب سے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستانی آئین کو تسلیم نہیں کرتے، لیکن انہیں آئین کو تسلیم کرنا ہوگا۔ اگر ہم دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے پر اتفاق کرتے ہیں تو طالبان کو ہتھیار پھینکنے ہوں گے اور دہشت گردی سے لاتعلقی کا اظہار کرنا ہوگا۔نوازشریف نےاقوام متحدہ میں خطاب کے دوران امریکی ڈرون حملوں کو غیر قانونی اور پاکستان کی جغرافیائی خود مختاری کے خلاف قرار دیا۔ پاکستان میں ایسے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی کمی نہیں جو ان دہشت گردوں سے مذاکرات کو ہی تمام مسائل کا حل سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان سے سمجھوتہ کر کے ہی ان مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ایسے خیالات رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں جو امریکی ڈرون حملوں کو پاکستان میں جاری دہشت گردی کا جواز سمجھتے ہوئے ان دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔حکومت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش و اقدامات، قوم اور عسکری اداروں کی طرف سے تائید کے باوجود ان دہشتگردوں کا مذاکرات کی پیشکش کا غیر واضح جواب اور مسلسل دہشت گردانہ کارروائیوں کو جاری رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ لوگ صرف اور صرف ریاست پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے سے کچھ افراد یا جماعتیں جانتے اور نہ جانتے ہوئے بھی ان دہشت گردوں کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہیں ۔ ان دہشت گردوں نے ڈرون حملہ کرنے والے امریکہ کو تو اب تک کوئی نقصان نہیں پہنچایا لیکن پاکستان کو ہر طرح سے اور ہر طرف سے نہ صرف نقصان پہنچایا بلکہ رسوائی اور بدنامی کے گہرے گڑھے میں بھی دھکیل دیا۔ ایسے عناصر کی دھشتگردانہ کاروائیوں نے پاکستان کا اعتبار دنیا میں بری طرح مجروح کیا ۔دھشتگردی سے متاثر ہونے والے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ اب دنیا میں ریاست پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کے وقار کی بحالی کے لئے ان عناصر کو ان کے انجام تک پہنچانے کے لئے راست اقدام کا وقت آ گیا ہے، ساتھ ساتھ ان کے اندرونی اور بیرونی حمائیتیوں اور ان کو رسد اور مالی مدد پہنچانے والوں کو بھی بے نقاب کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ان عناصر سے نمٹنے میں اب کسی قسم کی مصلحتوں کا شکار ہونے کا وقت بالکل نہیں ہے۔ اب حکومت کو ریت میں سرچھپانے کے بجائے سینہ تان کر ان عناصر کا مقابلہ کرنا پڑے گا تاکہ دہشت گردی کے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔
.......
/169