ابنا: طرابلس کے مرکزی اسپتال کے سرد خانے میں 18 حکومت مخالف باشندوں کے 30 سال پرانے اجساد دریافت ہوئے ہیں۔ جسمانی اذیت سے لاشوں کی حالت انتہائی مخدوش ہونے اور اتنا لمبا عرصہ گذر جانے کے باوجود طبی ماہرین ان اجساد میں سے تین کے بارے میں ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے پتا لگانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ دیگر لاشوں کا ڈی این اے ٹیسٹ جاری ہیں۔ یہ تین باشندے سابق ڈیکٹیٹر معمر قذافی کے محل پر حملے کے جرم میں سن 1984 کو قتل کر دیئے گئے تھے۔ اس سلسلے میں لیبیا کے معروف تجزئیہ نگار اور مصنف ناصر الدعیسی سے سوال کیا گیا کہ آیا ان اجساد میں امام موسیٰ صدر اور ان کے دو ساتھیوں کے اجساد موجود ہونے کا امکان ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ امام موسیٰ صدر کا مسئلہ ان افراد سے قدرے مختلف ہے کیونکہ ان کے جسم کو مکمل طور پر چھپا دیا گیا ہے کیونکہ قذافی کے دفتر کا انجارچ احمد رمضان تفتیش کے دوران اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ امام موسیٰ صدر کو شہید کیا جا چکا ہے۔
.......
/169