27 ستمبر 2013 - 20:30
تہران کے مہرآباد ایر پورٹ پر ڈاکٹر حسن روحانی کی پریس کانفرنس- باتصویر

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکی صدر اوباما نے اپنی ٹیلیفونی گفتگو میں ایران کے ایٹمی حقوق کو تسلیم کرلیا ہے۔

ابنا: صدر جناب حسن روحانی نے اقوام متحدہ سے وطن واپسی پر تہران کے مہرآباد ایر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ صدر اوباما نے جو ٹیلیفونی رابطہ کیا تھا اس میں بیشتر ایٹمی مسائل پر تبادلہ خیال ہوا اور اس بات پرتاکید کی گئي کہ ایران کا ایٹمی معاملہ نہ صرف ملت ایران کے حقوق سے متعلق ہے بلکہ ایران کی ترقی اور ایران کا قومی مسئلہ بن چکا ہے۔صدر جناب حسن روحانی نے نیویارک میں اپنے پروگراموں کے بارے میں کہا کہ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ مغرب کے ساتھ ایران کے مسائل حل ہوسکتے ہیں اور اس سلسلے میں حکمت سے بھری لچک جس طرح کے رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ فاتحانہ لچک کا مظاہرہ اور ملت ایران کی سربلندی کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ صدر مملکت نے پانچ جمع ایک گروپ کےساتھ وزرا کی سطح پر منعقدہ اجلاس کو ایران کے ایٹمی معاملے کے حل میں پہلا قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دورے کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے پیش نظر اہم موضوعات جیسے ایٹمی معاملے، علاقائي سکیورٹی، شام کی صورتحال اور فلسطین نیز دہشتگردی اور تشدد کے بارے میں تہران کے مواقف کی وضاحت کرنی تھی اور ہم نے اپنی آواز اھل عالم تک پہنچائي ہے۔  صدر جناب حسن روحانی نے کہا کہ تشدد، انتھا پسندی اور دہشتگردی کے بارے میں ہم نےاپنی نظر ایک تجویز کے طور پر پیش کی اور بہت سی شخصیتوں نے اس کا خیرمقدم کیا۔

.....

/169