27 ستمبر 2013 - 20:30
شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد منظور

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور دمشق کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی ہے۔

ابنا: سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اور دس غیر مستقل اراکین نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق روس اور امریکہ کی جانب سے تجویز کردہ قرارداد کو منظور کر لیا۔

تاہم اس قرارداد میں ایسی کوئی تجویز نہیں کہ اگر شام کے صدر اس پر عمل نہیں کرتے ہیں تو نتیجتا ان کے خلاف براہ راست کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اس ووٹ سے قبل عالمی کیمیائی ہتھیاروں کے نگران ادارے نے بھی شامی ہتھیاروں کے ذخیرے کو 2014 کے وسط تک تباہ کرنے کی حامی بھر لی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے قرارداد کی منظوری کو تاریخی واقعہ قرار دیا اور کہا کہ ’آج رات عالمی برادری نے اپنا فیصلہ سنایا ہے‘۔

انہوں نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس قرارداد پر عملدرآمد کو ’مخلصانہ طور پر بغیر تاخیر کے‘ ممکن بنائیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی قرارداد کی منظوری کا خیرمقدام کیا اور کہا کہ ان کا ملک ’تمام اقدامات میں حصہ لینے کو تیار ہے۔‘ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عالمی کوششوں کی کامیابی یہ ہوگی کہ تمام ذمہ داری شامی حکومت کے کاندھوں پر نہ ڈالی جائے بلکہ شامی حزب اختلاف بھی تعاون کرے۔

قرارداد میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے مگر اس کے لیے کسی کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔

ابتداء میں امریکہ اور روس کے درمیان اس قرارداد کے مسودے پر بہت سے اختلافات تھے۔ امریکہ قرارداد میں عسکری کارروائی کی دھمکی شامل کرنا چاہتا تھا لیکن روس اس کا مخالف تھا تاہم جمعرات کو دونوں ممالک اس کے مسودے پر متفق ہوگئے تھے۔

روس اور چین اس سے قبل تین بار مغربی ممالک کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے خلاف پیش کردہ قرارداد ویٹو کر چکے ہیں۔

.......

/169